کمپنی کی پالیسی، بونس اور فیلڈ آفیسر کے کمیشن کا شرعی حکم
ایک کمپنی اور اس سے ملنے والی رقم کا سوال و جواب ! بخدمت جناب حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب بریلی شریف یوپی کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید جبکہ ایک کمپنی جنا پر یا فنائش اینڈ انڈسٹریل انسٹیٹیوٹ انڈیا لمیٹڈ فلیڈ آفیسر (FO) ہے اس کمپنی میں زید نے کسی شخص کی تین ہزار روپیہ کی ایک پالیسی پانچ سال کی میعاد کے لئے بھروائی ، اس شخص کو پچاس روپیہ ماہوار پانچ سال تک جمع کرنا پڑتا ہے اور زید کو اس شخص کی ماہواری رقم پر 45 فیصدی کمیشن ملتا ہے اور اس طرح اس شخص کی ماہواری رقم پانچ سال میں دو ہزار نوسورو پہیہ ہو جاتے ہیں اور میعاد پانچ سال ختم ہو جانے کے بعد کمپنی اس شخص کو دو ہزار نو سور و پیر اور اس رقم پر گارنڈیڈ بونس کی شکل میں پانچ روپیہ فی ہزا ر سالانہ کی شکل میں زائد چلا۔ کیا یہ بونس کی رقم اس شخص کو لینا جائز ہے؟ اور زید کو اس شخص کی ماہواری رقم پر جو کمیشن ملتا ہے وہ زید کے حق المحنت میں شمار ہے یا نہیں؟ کمیشن یا بونس: جس شخص کی میعادی رقم پر کمپنی کو جو نفع ہوتا ہے اس نفع میں سے جو حصہ دیتی ہے اس کو کمیشن یا بونس کہتے ہیں؟ جلد سے جلد جواب دینے کی زحمت گوارہ کریں۔ المستفتی: محی الدین انڈین کو چنگ سینٹر 166 رنور اللہ روڈ ،الہ آباد 211003
جائز ہے اور زید کو جو رقم ملتی ہے وہ بھی مباح بشر طیکہ یہ معاملت غیر مسلم سے ہو اس لئے کہ کفار زمانہ حربی ہیں اور حربی کافر سے جو کچھ بے غدر و بد عہدی و بے ذلت نفس ملے وہ مسلم کو جائز و حلال ہے ۔ ہدایہ میں ہے: ” لأن مالهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر‘(۱) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۰ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ