ہندوستانی بینکوں سے لین دین، زکوۃ اور عشر سے متعلق پانچ سوالات کے جوابات
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) بینک سے ہندوستان کے لین دین کیسا ہے؟ (۲) جتناروپیہ گھر میں موجود ہے اتنا ہی بلکہ اس سے زائد بینک کو دینا ہے تو زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ (۳) آم کے پھل پر عشر کتنا ہے؟ (۳) اگر والدین نے سونا بچوں کو دے دیا اور یہ سونا ے سے رتولہ ہے تو زکو اس پر ہے یا نہیں؟ (۵) علاقہ نیپال میں تھا، بر دلوگوں کو قرض دیا جاتا ہے اور جتنا وصول ہوتا رہتا ہے اتنے کی زکوۃ دیتے رہتے ہیں ، باقی قرضہ کی زکوۃ ہے یا نہیں؟ لمستفتی : افتخار احمد ابن حاجی نوراحمد مرحوم ساکن قصبہ شیش گڑھ ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: (۱) زیادتی لینا مطلقا مباح ہے اور اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ یہ کا فر کا مال ہے جو بے غدر محض اس کی رضامندی سے مسلم کو ملا ہے اور ایسا مال جو حربی سے ملے ، خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: ” لان مالهم مباح فی دارهم فبای طریق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) اور زیادہ دینا بشرط حاجت و مصلحت جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر قدرتی پانی سے سیراب ہوا تو ۔ دسواں حصہ اور مول کے پانی سے سینچا تو بیسوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس پر بھی زکوۃ واجب ہے اور نصاب یا نصاب کا پانچواں وصول ہونے پر ادائے گی لازم (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۵ / رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی