انجمن کی رقم بینک میں جمع کرانے، اس کے نفع (سود) کے شرعی حکم اور چرم قربانی سے متعلق مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: اہل سنت مسلم وظیفہ انجمن یہ جو ادارہ جس میں زکوۃ فطرہ، چرم قربانی، صدقات جمع کیا جاتا ہے، اور وظائف کے طور پر یتیم بیوہ غریب مسکین کو امداد دی جاتی ہے۔ (۱) کیا یہ رقم بینک میں جمع کر سکتے ہیں؟ (۲) اگر بحکم شرعی جمع کرا سکتے ہیں تو اس کا سود بینک سے لے سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) اگر شہر میں سود لے سکتے ہیں تو سود کی رقم کا استعمال کہاں کہاں کر سکتے ہیں؟ (۴) چرم قربانی اکھاڑے کے اندر رہنے کا کیا حکم ہے؟ کیا ہماری قربانی درست ہو جائے گی ؟ اکھاڑے کا مطلب یہ ہے کہ محرم کے دس دنوں میں ڈھول و تا شا بجا کر ماتم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی اہل سنت مسلم وظیفه انجمن تیلیاں ، فتح پور سچا وائی۔ (یوپی)
الجواب: (۱) جمع کر سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ رقم سود نہیں، نہ اسے سود سمجھنا حلال کہ سود کا معاملہ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان نہیں ہوتا۔ لہذا حربی کافر سے جو کچھ بے ذلت نفس و بے بد عہدی محض اس کی رضا سے مسلم کو ملے وہ خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر “ (1) اور کفار زمانہ حربی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم ۔ یہاں سے حکم سوال ظاہر ہے۔ (۳) ہر جائز مصرف میں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور تفصیل کے لئے رسالہ بینک دیکھیں جو قادری بکڈ پونو محلہ مسجد ، بریلی سے ملے گا۔ (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات (۴) نہیں ، مگر قربانی اس وجہ سے نا درست نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ ارذی الحجہ ۱۴۰۰ھ