غیر مسلم سے روپے لینے اور سود خور کے یہاں کھانے اور مطلقاً فاتحہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (1) غیر مسلم سے روپے لے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز کسی مجبوری کے تحت سود خور کے یہاں کھانا کھانا کیسا ہے؟ (۲) مطلقاً فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ نیز پنجگانہ کے بعد دعائے ثانی میں فاتحہ پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں جبکہ اسے فرض یا ضروری نہ سمجھیں ۔ جواب جلد از جلد مرحمت فرمائیے۔
الجواب: (1) غیر مسلم سے جو زیادتی ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں،سوم متحقق ہونے کے لئے دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط ہے اور حربی کا فر کا مال معصوم نہیں۔
در مختار میں ہے : شرط الرباعصمة البدلين (1) لہذا ان سے جو مال بے غدر شرعی اور اپنی عزت آبرو کو خطرہ میں ڈالے بغیر ملے وہ خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب فبأى طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر “(۲) سودخور کے یہاں نہ کھانا چاہئے ، یہ مجبوری حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فاتحہ پڑھنا مطلقاً بہتر ہے، نمازوں کے بعد بھی خوب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۲ / رمضان المبارک ۱۳۹۰ھ
(1) الدر المختار، كتاب البيوع، باب الربوا، ج۷، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الهداية كتاب البيوع ، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات