کافر کے سود کے روپے کو ذاتی مصرف میں لانا اور کافر سے کھیت گروی رکھنے کا حکم
روپے کو اپنے ذاتی مصرف میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) یہاں کے کافر سے کھیت وغیرہ گروی رکھتے ہیں اس کا رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ۔ یہاں ایک مولانا صاحب بریلی شریف سے فارغ ہیں ، آئے تھے انہوں نے جائز بتایا ہے۔ المستفتی: مشتاق علی، پر دلپور ضلع علی گڑھ
الجواب: جائز ہے اور اسے ہر جائز مصرف میں اُٹھانا مباح ہے کہ کفار زمانہ حربی ہیں اور حربی سے مسلم کو جو کچھ بغیر بدعہدی کے جس طرح ملے وہ مسلم کے لئے خالص مباح ہے سود نہیں کہ سود مسلم اور حربی کے درمیان نہیں ہوتا۔ لہذا وہ جو کچھ مسلم کو محض اپنی رضا سے دے اور غدر وخیانت نہ ہو وہ اسے حلال ہے، اگر چہ عقود فاسدہ کے ذریعہ ہو۔ ہدایہ میں ہے: لان مالهم مباح فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (۱) در مختار میں ہے: ،، ولو بعقد فاسد (۲) اور تفصیل کے لئے رسالہ بینک ملاحظہ ہو جو ہمارے مخلص مکرم قاضی عبد الرحیم بستوی صاحب کے مکتبہ قادری بکنڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے ملے گا۔ واللہ تعالی اعلم (۲) بے ضرورت شرعیہ اس کی اجازت نہیں کہ حربی کو نفع دینا جائز نہیں اور اس کا کھیت گروی رکھ کر فائدہ اٹھانامباح ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات (۲) الدر المختار باب الربوا، ج۷، ص ۴۲۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت