بینک میں رقم جمع کرنے پر ملنے والے اضافے اور چالو کھاتے کے نفع کا حکم
بینک کے چالو کھاتا اور نفس کھاتا کا مسئلہ، اور اسکی اضافی رقم کیسی ؟ معظم و مکرم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ گزارش عرض یہ ہے کہ ایک شخص بینک ہی میں روپیہ جمع کرتا ہے۔ ۱۰ سال تک کے لئے اس کا دو ہزار روپیہ جمع ہوتا ہے، اور دس سال کے بعد اس کو بینک چوہیں سور و پیہ دیتی ہے تو کیا یہ چار سو روپیہ سود میں گنتی ہوگا یا کہ چار سو روپیہ منافع بینک دیگی؟ اگر وہ سود بھی شامل ہے تو آپ براہ کرم جلد سے جلد اطلاع دیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا بینک میں چالو کھاتا ہے یعنی دو روز ایک روز کے بعد روپیہ نکالنا اور جمع کرنا، سال میں حساب کرنے کے بعد بینک مجھے تقریباً کچھ رو پید الگ سے دیتی ہے تو کیا وہ الگ والا روپیہ سود ہوتا ہے یا منافع ؟ اس کی مجھے اطلاع کریں اور اگر وہ روپیہ میں لے لوں تو کس کام میں خرچ کیا جائے؟
الجواب: یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ لہذا جو کچھ ان سے بے ذلت نفس اور بے بدعہدی کے ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے: لِأَنَّ مَالَهُمْ مُبَاحٌ فَبِأَيِّ طَرِيقٍ أَخَذَهُ الْمُسْلِمُ أَخَذَ مَالًا مُبَاحًا إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ غَدْرٌ (۱) در مختار میں ہے: 66 ولو بعقد فاسد (۲) لہذا بینک سے جو منافع ملتا ہے وہ جائز ومباح ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله