سود کی تعریف اور مسلم و غیر مسلم سے سود کے لین دین کا شرعی حکم
سود کی تعریف ! سود مسلم سے حرام! مکرمی جناب مفتی صاحب! السلام علیکم جناب عالی کی خدمت میں گزارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات از روئے شریعت مرحمت فرمائیں! (1) سود کی کیا تعریف ہے؟ (۲) مسلم یا غیر مسلم سے سود لینا یا دینا کیسا ہے؟ (۳) کس کس چیز پر منافع لینا سود کی تعریف میں آتا ہے؟ (۴) کیا سلسلہ نظامیہ جاری ہے یا سوخت ہے؟ سائل : اختر یارخاں معرفت عبدالقیوم عبد القادری لنگی مرچنٹ ، سبزی منڈی، بریلی
الجواب: (1) وہ زیادتی مال جو قرض پر لی جائے اور اسی طرح وہ زیادتی بھی سود ہے جو کیلی یا وزنی (ناپ تول والی ) اشیاء میں جنس کے جنس سے تبادلہ کی صورت میں لی جائے ، مثلاً ایک سیر گیہوں کے بدلہ دو سیر گیہوں۔ فتح القدیر میں ہے: "الربا يقال لنفس الزائد ومنه ظاهر قوله تعالى لا تاكلوا الربا أى الزائد في القرض والسلف على المدفوع والزائد في بيع الاموال الربوية عند بيع بعضها بجنسه (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مسلم سے حرام ہے اور آج کل کے غیر مسلموں سے جو زیادتی بے ذلت نفس اور بے بدعہدی کے ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ کفار زمانہ حربی ہیں اور سود مسلم و ذمی و مستامن سے ہوتا ہے،حربی سے نہیں۔ ہدایہ میں ہے: لا ربا بين المسلم والحربى فى دار الحرب لأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر (۲) یوں ہی کار زمانہ کو زیا دتی دینا بھی سود نہیں مگر بے ضرورت شرعیہ انہیں زیادتی دینا حرام ہے اور تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے منگا کر دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہر کیلی و وزنی چیز کا تبادلہ جب اسی جنس سے کیا جائے تو اس میں زیادتی لینا سود ہے۔ ہدایہ میں ہے: الربا محرم في مکیل او موزون اذا بیع بجنسه متفاضلا(۳) واللہ تعالیٰ اعلم (1) فتح القدير ، باب الربوا، ج۷، ص۳، برکات رضا، گجرات (۲) الهداية كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات (۳) الهداية كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات (۴) اس کا جواب رقعہ ہمرشتہ میں ہو گیا۔ فقط فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی