ہندوستان کی شرعی حیثیت، سود، تعزیہ داری، شناخت میت اور دیگر متفرق فقہی مسائل
(۲) انڈیا یعنی ہندوستان دارالحرب ہے یا دار الاسلام؟ قرآن واحادیث سے حوالہ مرحمت فرمائیں۔ (۳) علم و تعزیہ داری جائز ہے یا ممنوع ؟ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتویٰ سے اس بارے میں جو ہیں وہ غلط ہیں یا درست؟ (۴) علم محرم و علم اولیائے کرام علیہم الرضوان میں بین فرق کیا ہے؟ دونوں جائز ہیں یا نہیں؟ فرق و وجہ جواز کیا ہے؟ (۵) تالاب یا دریا سے ایک مردہ عورت کی لاش پائی گئی ، اب کیسے شناخت کی جائے کہ یہ میت مسلم عورت کی ہے یا غیر مسلم کی ؟ پہچان بنائیں، کیسے پہچانی جائے؟ (6) محبوب عالم نام کا ایک آدمی ہے جو اپنے کو عالم اور سنی کہلاتا ہے، دیو بندی سے ملتا جلتا ہے، ان کے ساتھ کھاتا پیتا ہے، دوسرے لوگوں کی غیبت کرتا ہے، بازار میں عام طور پر بیٹھتا ہے، ہندو کے یہاں کی چائے وغیرہ پیتا ہے۔ دریافت طلب ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ ایسے کو امام بنانا کیسا ہے؟ (۷) ایک شہر میں ایک بہت بڑی عید گاہ ہے جہاں شہر و قرب شہر کے لوگ عید کے دن جمع ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود بھی جگہ خالی رہتی ہے، تو کیا ایسے مقام پر عیدگاہ کے ہوتے ہوئے چھوٹی مسجد میں نماز عید پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ (۸) ایک شخص کی میت ہوئی تو جماعت کثیرہ کے ساتھ نماز جناز و پڑھی گئی پھر تھوڑی دیر کے بعد کچھ لوگ باہر سے آ گئے اور دوسری نماز جنازہ پڑھی گئی، کیا اسطرح پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب سے نواز میں ! المستفتی : سید محمد میاں قادری (بڑودہ )
الجواب: (1) وہ سود نہیں، نہ اس کو سود کہنا جائز بلکہ خالص مباح کہ سود مسلم و مسلم کے مابین یا مسلم اور ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے، مسلم وحربی کے درمیان سود نہیں ہوتا اور یہاں کے کفار سب حربی ہیں کہ یہاں حکومت اسلامیہ قائم ہی نہیں، جس سے ان کا عقود ہو اور جسے یہ جزیہ دیتے ہوں تو ربا کی شرط کہ مال کا معصوم ہونا ہے، مفقود ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: رد المحتار میں ہے: لأن الربا انما يكون فى مال معصوم (1) و من شرائط الرباعصمة البدلين (۲) لہذا ان سے جو بے ذلت و بد عہدی ملے جائز و مباح ہے۔ كتاب البيوع / باب الربا ہدایہ میں ہے: ”لأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا ، اذالم يكن فيه غدر “ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہندوستان بحمدہ تعالیٰ دار الاسلام ہے کہ یہاں شعار دین مثلاً اذان و جمعہ وعیدین و احکام شرع رائج ومعمول ہیں جب تک یہ رائج و قائم رہیں گے، ہندوستان دارالاسلام ہی رہے گا اور تحقیق مسئلہ اعلام الاعلام بأن ہندوستان دار الاسلام مصنفہ سید نا اعلیٰ حضرت میں دیکھی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مروجہ تعزیہ داری کہ منگھڑت تعزیوں جنہیں روضہ امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اصلاً مناسبت نہیں ہوتی اور بیشتر منکرات پر مشتمل ہوتی ہے، ضرور نا جائز وحرام ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا فتویٰ اس امر میں حق وصواب ہے ، اس کے متعلق سوال حیرت انگیز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) علم بمعنی علامت ہے اور علامت کا جواز و عدم جواز ذی علامت جس کے لئے علامت بنائی کے جواز و عدم جواز کے تابع ہے، مروجہ تعزیہ داری کہ ڈھول باجے تاشوں اور دیگر منکرات وخرافات کا نام ہے، اس کا یہ علم اس پر علامت ہے۔ لہذا نا جائز وحرام ہے کہ ایک ایک نہ بلکہ اس مجموعہ کبائر میں شہرت و امتیاز کا موجب ہے اور ایسی شہرت خود ممنوع ۔ حدیث شریف میں ہے: من لبس ثوب شهرة ألبسه الله ثوب مذلة “(۴) بلکہ خیرات وحسنات میں نرمی شہرت کی ہوس بے نیت محمود خود مردود کہ "الریاء شرک خفی“ اولیاء کے لئے جو علم نکالتا ہے وہ بھی اگر منکرات پر علامت ہو یا محض نری شہرت و ناموری کی نیت سے ہو تو ناجائز وممنوع ہے اور اگر وہ جلوس خیرات وحسنات کا جلوس ہو اور علم ترغیب خیر کے لئے تو اس میں حرج نہیں بلکہ جائز ومستحسن ہے کہ ،، الدال علی الخير کفاعله ) اور اس کا جواز اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ فرمان الہی : ذلِكَ أَدْنَى أَنْ تُعْرَفُنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ الآية اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان مٹائی نہ جائے۔ اس آیت کریمہ سے علمائے کرام نے بہت سے مسائل جیسے سادات کے لئے علامت سبز اولیاء کے لئے چادر غلاف چراغاں استنباط فرما یا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس کے کپڑے یا بدن کے ذریعہ کوئی علامت ہو تو اس کی شناخت کی جائے نہ ہو تو ثقہ لوگوں سے پوچھیں ، یہ بھی نہ ہو تو غالب ظن پر عمل کیا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (6) دیو بندیوں سے میل جول حرام اور غیبت بھی حرام اور جوان امور میں مشہور ہو ، فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: ،، لوقدموافاسقاياثمون كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) درست ہے مگر یہ ضرور ہے کہ امام ماذون به اقامت عید ہور نہ نماز نہ ہوگی۔ در مختار میں ہے: وو ويشترط لصحتها السلطان أو ماموره و نصب العامة غير معتبر مع وجود من ذكر ،، اما مع عدمهم فيجوز للضرورة-اه (۱) واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ہمارے مذہب مہذب حنفی میں ولی میت نے اگر نماز جنازہ پڑھ لی تو اب تکرار جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الدر المختار، کتاب الصلوة ، باب الجمعة، ج ۳، ص ۱ تا ۱۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت