مسجد کی تعمیر کے لیے بینک سے سودی قرضہ لینے کے جواز کا شرعی حکم
ہماری مسجد کی ایک، ایک منزلہ عمارت ہے جو کرایہ پر اٹھی ہوئی ہے، ہم لوگ اس کو دو منزلہ بنوانا چاہتے ہیں، دومنزلہ بنوانے کے لئے بینک سے قرضہ لینا پڑے گا اور بینک قرض دینے کے لئے تیار بھی ہے اس لئے کہ دو منزلہ عمارت کو بینک بطور کرائے سے لینا چاہتی ہے۔ بینک جو قرضہ دے گی وہ مع سود کے واپس کرنا ہوگا، قرض ادا کرنے کے بعد اس کی آمدنی مسجد میں ہی صرف ہوگی، کیا ایسا از روئے شرع جائز ہے؟ یا نہیں؟ ذرا تفصیل کے ساتھ مع حوالہ کتاب تحریر فرما ئیں۔ عین نوازش ہوگی فقط ! آپ کا طالب دعا: محمد یوسف چابک سوار صدر مسلم جماعت جودار ضلع تھانہ،مہاراشٹر
الجواب: بینک کے قرضہ پر جو زیادتی دی جاتی ہے وہ سود نہیں کہ سود مسلم ومسلم یا مسلم و ذمی یا مستامن کے درمیان ہوتا ہے اور مسلم وحربی کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ لہذا حربی کا فر بخوشی جو کچھ دے وہ مسلم کے لئے خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: لا ربا بين المسلم والحربى فى دار الحرب فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (1) مگر بلاضرورت اسے زیادتی دینا حرام و گناہ ہے کہ ہمیں حربی کافروں سے صلہ کا حکم نہیں ۔ قال تعالى : إنما يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الياني الآية (1) لہذا مسجد کے لئے ایسے قرضہ کی اجازت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (نوٹ) تفصیل کے لئے رسالہ بینک مطبوعہ قادری بکڈ پون محلہ مسجد بریلی منگا کر دیکھیں ۔ فقط فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰، مجلس بركات (۲) سورة الممتحنة: ٩