بینک سے سودی قرض لے کر کاروبار کرنا اور فاؤنٹن پین جیب میں رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم
بینک سے قرض لے کر کاروبار کرنا از روئے شرع کیسا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (۱) بینک سے سود پر قرضہ لے کر کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟ (۲) آج کل قلم میں روشنائی بھر لیتے ہیں اور اسی سے ہر چیز لکھتے ہیں ۔ ایسے قلم ( فاؤنٹن ) سے لکھنا یا اس کا جیب میں لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے مروجہ قلم جیب میں لگا کر نماز نہیں پڑھنا چاہیئے۔ کیا زیدٹھیک کہتا ہے؟ بینو او جروا المستفتی : رحمت اللہ، ہر ہر گنج (بہار)
الجواب: (1) بینک وغیرہ سے جو رقم ملتی ہے، وہ سود نہیں کہ سود تو مسلمان و مسلمان یا مسلمان و ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے، مسلم و کا فر حربی کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ لہذا کفار زمانہ سے جو کچھ ان کی رضا سے حاصل ہو، مسلم کے لئے خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب فباى طرق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر ) مگر بےضرورت کا فر کوفائدہ پہنچانا حرام ہے۔ قال تعالى : إِثْمَا يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ فَتَلُوكُمْ - الآية (٢) (۲) نظر بر آں بینک سے قرضہ لینا بھی حرام ہونا چاہئے ،مگر اس قرضہ میں مسلم کو نفع کثیر متصور اور کفار کو قلیل فائدہ ہوتا ہے تو اپنے نفع کثیرہ کے لئے یہ قرضہ لے سکتا ہے تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے منگا کر دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس روشنائی میں کسی نجس کی آمیزش شرعی طور سے ثابت نہیں تو شرعاً اس کی طہارت کا حکم ہے او اس قلم کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا جائز ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۷؍ ربیع الآخر ا۱۴۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف الهداية، كتاب البيوع ، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات سورة الممتحنة: ٩