مسجد کی رقم بینک میں رکھنا، امام کی اقتدا اور میت پر قرآنی آیات والی چادر ڈالنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) میرے یہاں یعنی میرے گاؤں بھگا سراں کی مسجد کی رقوم مبلغ اٹھائیس ہزار روپے میرے گاؤں کی مسجد کے امام صاحب کے پاس جمع تھے، وہ کل روپے کچھ لوگوں کے کہنے سے بینک میں امام صاحب نے اپنے نام سے کھاتہ کھلوا کر بینک میں ڈال دیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ہم بیاج یعنی سود نہیں لیں گے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد کے روپے بینک میں رکھنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ (۲) دوسری بات یہ ہے کہ امام صاحب نے جو اپنے نام سے مسجد کے روپے بینک میں رکھ دئے تو ایسے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی درست یعنی جائز ہے یا نہیں؟ (۳) ہمارے یہاں یہ رواج ہے کہ میت پر یعنی جنازے پر چادر ڈالتے ہیں، اس چادر پر آیتہ الکرسی کلمہ اور قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں، کیا ایسی چادر جس پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہوں، میت پر ڈالنا یعنی ڈھانپنا،سر سے پاؤں تک جائز ہے یا نہیں ؟ بعض حضرات اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ پاؤں پر ڈالنا نا جائز ہے اس لئے کہ اس چادر میں قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں، اس سے کلام الہی کی بے ادبی ہوتی ہے۔ حضور عالی جاہ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مذکورہ بالا تینوں مسئلوں کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ مدلل و مفصل مرحمت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ بینوا بالکتاب و تو جروا بالحساب لمستفتی محمد اصغر علی خاں بن محمد علیم خاں مرحوم مقام وڈاکخانہ بھگا سراں، والیہ نیسواں ضلع سیکر ( راجستھان)
الجواب: (1) جائز ہے، اور جو ر تم جمع پر بینگ زیادہ دیتا ہے وہ سود نہیں، نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے بلکہ خالص مباح ہے کہ حربی کا فر کا مال ہے جو بے ذلت نفس و بے بد عہدی ملتا ہے اور حربی کافر سے جو کچھ مسلم کو اس طرح ملے ، حلال ہے۔ ہدایہ میں ہے : لأن ما لهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا ،، اذا لم یکن فیه غدر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے عذر شرعی امام کو حلال نہ تھا کہ روپے مسجد کے اپنے نام جمع کرے کہ یہ فعل باعث تہمت ہے اور مواضع تہمت سے بچنا لازم ہے ۔ حدیث میں ہے: ،، من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقفن مواقف التهم (٢) واللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے، ہر گز تہمت کی جگہوں پر نہ کھڑا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) چادر ڈالنے میں حرج نہیں اور پاؤں کی جانب سے چادر سمیٹ دیں تا کہ کلمہ وغیرہ کی بے حرمتی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ