بینک کا منافع، حالت حیض میں جماع کا کفارہ اور بھائی کو زکوٰۃ دینے کا حکم
روپے پیسے میں کیا ہوگی؟ اور سرخ وسفید کی جو قید انہوں نے بتائی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟ (۳) اپنے سگے بھائی کوز کو ۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا المستلقی ماسٹرمحمد فضل کریم مدرس درجات پرائمری مدرسه دارالعلوم درگاه حضرت بابا منڈا شاہ ، بہرایچ (یوپی)
الجواب: (1) بینک سے جو منافع ہوتا ہے وہ مسلم کے لئے خالص مباح ہے اسے سود سمجھنا حلال نہیں کہ کافر حربی کا مال کہ بے غدر شرعی و بد عہدی عقود صحیحہ خواہ فاسدہ سے ہو غرض جس طرح ہو مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: ”لان مالهم مباح فى دارهم فبأي طريق أخذه المسلم أخذ ما لا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) تفصیل کے لئے رسالہ بینک دیکھئے جو قا دری بک ڈپونو محلہ مسجد بریلی سے دستیاب ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہاں بے شک صرف تو بہ کافی ہے اور ابتداء حیض میں اگر جماع کیا تو ایک دینارصدقہ کرنا مستحب ہے اور آخر حیض میں نصف دینا رصدقہ دینا مندوب ہے۔ مجمع الانہر میں ہے: وو ولو وطئها غير مستحل عالما بالحرمة عامدا مختار الاجاهلا ولا ناسيا ولا مكرها كبيرة فليس عليه الا التوبة والاستغفار ويستجب ان يتصدق بدينار او نصفه و قیل بدیناران كان في اول الحيض و بنصفه في آخره (۲) دینا رسونے کا ہوتا ہے جس کا جدید وزن ۴ گرام ۶۶۵ ملی گرام اور تین شمس ملی گرام ہے اس وزن کی قیمت جو قرار پائے وہ یا اس کی آدھی قیمت صدقہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے بشرطیکہ صاحب نصاب نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله