سرکاری بینکوں یا ہندوستانی کفار سے تجارت کرنے کے لئے سود پر پیسہ لینے کا حکم
(1) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: سرکاری بینکوں سے تجارت کا کارخانہ وغیرہ لگوانے موٹر وغیرہ خریدنے کو ہندوستانی گورنمنٹ قرض پر روپیہ دیتی ہے اور پھر بعد میں مع سود کے روپیہ واپس قسطوں کے حساب سے لیتی ہے۔ یہاں کی حکومت اسلامی نہیں ہے تو کیا ان شرائط پر کوئی مسلمان حکومت کے بینکوں سے روپیہ لے سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ لین دین مسلمان اور حکومت ہند کے درمیان سود ہوگا یا نہیں؟ برائے کرم شرعی احکام سے مطلع فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔ (۲) ایک مسلمان جس کے پاس اتنا روپیہ نہیں ہے کہ وہ تجارت کر سکے اور اگر کاروبار نہیں کرتا تو بچوں کا گزر ہونا مشکل ہے اب اگر ایسی حالت میں اسے کہیں سے روپیہ کا بندوبست نہیں ہوتا تو کیا وہ ہندوستان کے کافروں سے سود پر روپیہ تجارت کے واسطے لے سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ لین دین مسلمان اور کافر کے درمیان سود ہوگا یا نہیں ؟ شرعی دلائل کے ساتھ جواب سے مطلع فرمائیں۔ المستفتی: عبدالجبار مهوده ،محلہ قاضی پور جامع مسجد کے پاس ضلع ہمیر پور
الجواب: سود نہ ہو گا مگر حربی کا فر کو بے ضرورت شرعیہ تقلع پہنچا نا حرام ہے۔ لأنانهينا عن برهم کذا فی رد المحتار) نظر برآں بے ضرورت شرعیہ ایسی معاملت حرام ہونا چاہئے مگر اس میں مسلم کو نفع کثیر ہے اور کفار کو نفع قلیل لہذا اپنے نفع کثیر کی غرض سے ان سے یہ معاملہ کرلے۔ یہیں سے دوسرے سوال کا جواب بھی ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم بہاءالمصطفیٰ قادری فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله