گورنمنٹی بینکوں کی رقم کو سود بتانے والے اور جاہلانہ بحث کرنے والے کا حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید حضور مفتی اعظم ہند سے بیعت ہونے کے باوجود بھی سرکاری بینک سے ملنے والے پیسے پر زیادتی رقم کو سود کے حکم میں کر کے حرام کہتا ہے اور پھر اس موضوع پر جاہلانہ بحث کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بریلویوں کی طرف سے ہمارا اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے۔ چند غیر مقلدین بھی اس کے قول کی تائید کرتے ہیں اس مندرجہ بالا مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بحوالہ بیان فرمانے کی زحمت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی بینوا توجروا المستفتی: تطہیر احمد رضوی نوری متعلم مدرس خلیل العلوم منجل ضلع مراد آباد
الجواب: زید کا اس رقم کو جوگو رنمینٹی بینکوں سے ملتی ہے سود بتانا حدیث وفقہ کے مخالف ہے اور اسے حرام سمجھنا محض اتباع وہم ہے۔ یہاں کے بینکوں سے جو رقم ملتی ہے وہ سود نہیں نہ اسے سود سمجھنا حلال ہے۔ بلکہ خالص مباح ہے کہ سود مسلمان و مسلمان اور مسلمان وذمی کے درمیان ہوتا ہے اور حربی ومسلم کے درمیان سود نہیں کہ سود کے متحقق ہونے کے لئے دونوں طرف مال معصوم ہو نا شرط ہے۔ رد المحتار میں ہے: "ومن شرائط الرباعصمةالبدلين“(۱) اور حربی کا مال معصوم نہیں۔ لہذا جو زیادتی ان سے بے غدر و بدعہدی اور اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالے ملے وہ خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے : ”لار با بین المسلم و الحربى فى دار الحرب فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر “(۲) دو یہاں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ اس عبارت میں اور حدیث میں فی دار الحرب کی قید ہے تو یہ حکم دارالحرب کے ساتھ خاص ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ اس حکم کی علت وہی ہے جو ابھی رد المحتار سے شرائط الربا عصمتہ البدلین گزرا، ربا کی شرط عصمت بدلین ہے تو جب احد البد لین شرعا معصوم نہ ہوگا بالضرورة ربا کا محقق نہ ہو گا۔ اُنہ اذافات الشرط فات المشروط تو مدار کار عصمت و عدم عصمت پر ہے نہ کہ دار الحرب میں ہونے پر ۔ یہاں سے ظاہر ہے کہ فی دار الحرب کی قید محض اتفاقی و بیان واقع کے لئے ہے پہلے ایسی صورت متحقق نہ تھی کہ دارالاسلام مسکن حربی ہو اس لئے دارالحرب فرمایا گیا۔ ہاں یہ صورت دور عالمگیری میں متحقق ہوئی کہ اس دور کے کفار حربی تھے۔ حالانکہ وہ زمانہ شوکت اسلام کا زمانہ تھا۔ تفسیر احمدی میں ملاجیون علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: (1) (۲) (۳) ،، ان هم الاحربی (۳) رد المحتار، کتاب البیوع ، باب الربوا ، ج ۶ ، ص ۳۹۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت الهداية ، كتاب البيوع ، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس بركات التفسير الاحمدي سوره التوبة، ص ۳۰۰ مكتبه رحيميه پر ظاہر کہ حربی کا دار الاسلام میں ہونا اسے حربی ہونے سے خارج نہیں کرتا اور جبتک وہ مستامن نہیں اس کے لئے وہی احکام ثابت ہوں گے جو جملہ حربی کفار کے لئے ہیں بالجملہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجود اور عدم میں دائر ہوتا ہے کما صرحوا بہ فی الاصول ۔ نہ کہ کسی مکان کے ساتھ خاص و بند ہمارے علمائے کرام نے حربی سے عقود فاسدہ کو جائز فرمایا۔ تفسیر احمدی و در مختار میں ہے: واللفظ للآخر: "ولو بعقد فاسد (1) مدعی پر لازم کہ وہ تخصیص دار الحرب پر دلیل قائم کرے اور یہ کہنا کہ بریلویوں سے ہما را الخ محض بیہودہ ہے اور بے لقب سے تو بہ لازم آدمی کو لازم کہ دلیل سے کام رکھے اور زبان درازی سے باز رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ (1) الدر المختار، كتاب البيوع، باب الربا، ج۷، ص ۴۲۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت