قرض کے عوض زمین رہن رکھ کر اس سے نفع حاصل کرنے کی حرمت
نام چھپا کر سوال کرنا چاہئے، قرض سے نفع اٹھا نا حرام ہے! بعد سلام مسنون مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں علمائے کرام دین و شریعت کی رو سے کیا فرماتے ہیں برائے مہربانی جلدی لکھیں۔ (1) مشتاق احمد نے ۵ بیگھہ زمین قابل کاشت مالک سے لیا ہے، عرصہ پانچ سال کے لئے۔ ۵۰۰ روپے دے کر اس شرط پر رکھی کہ مشتاق احمد اس زمین پر کا شیکاری کل گت کریں گے جو بھی زمین میں پیداوار ہوگی ، اس کے مالک مشتاق احمد ہی ہوں گے۔ آپس میں اسٹامپ پیپر پر یہ معاہد ہ بھی ہوا کہ زاہد پانچ سال یا پانچ سال کے اندر جب یہ ۵۰۰ / روپیہ مشتاق احد کو واپس کر دیں گے، مشتاق احمد اس زمین پر کاشتکاری نہیں کریں گے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ مشتاق احمد نے ۵۰۰ روپیہ دے کر جو اس زمین سے فائدہ اٹھایا اور بعد کو اپنا دیا ہوا روپیہ بھی زمین والے سے لیا۔ کیا جو فائدہ اس زمین سے ملا وہ اس کا مستحق ہے یا نہیں ؟ تفصیل سے لکھیں۔
الجواب:سوال زید و عمر وغیرہ فرضی ناموں سے کرنا چاہئے ، کہ یہی ادب سوال ہے۔زواجر میں ہے : ” الافضل ان يبهمه‘(۱)اب جو حکم تحریر ہو گا وہ اس تقدیر پر ہوگا کہ سوال واقعہ کے مطابق ہو۔(1) صورت مسئولہ میں مشتاق کا فعل نا جائز ہے کہ قرض سے منفعت اٹھانا ہے جو حرام وسود ہے۔حدیث میں ہے: ”کل قرض جرمنفعة فهو ربا (۲)اور یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ مقترض مسلم ہو ورنہ جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) بینک سے جو قرض بشرط زیادتی ملتا ہے اس میں مسلم کے لئے منفعت کثیرہ متصور ہے لہذا اجازتہے۔واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۶ / جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ