بینک سے سود پر قرض لے کر کاروبار کرنے کا حکم اور سوال میں فرضی ناموں کا ادب
(۲) ایک شخص جس کی مالی حالت بہت اچھی ہے ، گورنمنٹ سے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے بینک سے روپیہ سود پر لے کر اپنا کاروبار چلاتا ہے، اس طرح سے جو کاروبار چلایا جائے وہ جائز ہے یا نہیں؟ لکھیں والسلام
الجواب: سید نزاکت علی، بریلی سوال زید و عمر وغیرہ فرضی ناموں سے کرنا چاہئے ، کہ یہی ادب سوال ہے۔ زواجر میں ہے : ” الافضل ان يبهمه‘(۱) اب جو حکم تحریر ہو گا وہ اس تقدیر پر ہوگا کہ سوال واقعہ کے مطابق ہو۔ (1) صورت مسئولہ میں مشتاق کا فعل نا جائز ہے کہ قرض سے منفعت اٹھانا ہے جو حرام وسود ہے۔ حدیث میں ہے: ”کل قرض جرمنفعة فهو ربا (۲) اور یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ مقترض مسلم ہو ورنہ جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بینک سے جو قرض بشرط زیادتی ملتا ہے اس میں مسلم کے لئے منفعت کثیرہ متصور ہے لہذا اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ