بینک اور ڈاکخانہ سے حاصل ہونے والے تفاضل (سود) کا شرعی حکم
بینک سے جو تفاضل حاصل ہوتا ہے اسکا کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں کہ ڈاکخانہ اور بینک میں جو روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور مہینے کے حساب سے جو تفاضل اس روپیہ سے ملتا ہے وہ لینا کیسا ہے اور جائز کی صورت کیا ہے؟ برائے کرم مع حوالہ کتاب جواب عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا ! المستفتی: محمد شہاب الدین رضوی
الجواب: جائز ہے کہ مال کا فر حربی ہے اور وہ غیر معصوم ہے اور ربا وسود کے لئے دونوں طرف مال معصوم الهداية، كتاب البيوع ، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس بركات الدر المختار ، كتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء وغيره ، ج ۹، ص ۵۹۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت ہونا شرط ہے۔ ردالمحتار میں ہے: ،، من شرائط الرباعصمة البدلين )) اور جب سود کی شرط کا فر حربی کے مال میں محروم تو اس کا سود نہ ہونا اور خالص مباح ہو نا معلوم ۔ لہذا بلا غدر وذلت نفس مسلم کو کافر حربی سے جو کچھ ملے وہ اسے حلال ہے۔ ہدایہ میں ہے: لأن مالهم مباح فی دار هم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه ،، غدر “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله اار جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ (۱) (۲) رد المحتار، کتاب البيوع ، باب الربوا ، ج ۶ ، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت الهداية ، كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات