بینک سے ملنے والی زیادتی کا شرعی حکم اور اس کا مدرسہ میں استعمال
گیا ایک لاکھ ہے اس کا سود ۱۲ ہزار ملتا ہے تو یہ عین ابھی رکا ہوا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے مدرسہ تیار ہو گیا ہے، پڑھائی اچھی طرح سے ہوتی ہے۔ لمستفتی : سیٹھ حبیب اللہ خان صاحب ساکن تعلقہ وا گور یا ضلع بڑودہ (گجرات)
الجواب: بینک سے جو زیادتی ملتی ہے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ سود مسلم ومسلم یا مسلم وذمی کے درمیان ہوتا ہے اور کفار زمانہ میں نہیں تو ان سے معامت میں سود تحقیق نہیں ۔ لہذا مسلم کو بے ذلت نفس و بے بد عہدی جو کچھ کا فر کی خوشی سے ملے، خالص مباح ہے اگر چہ عقود فاسدہ سے حاصل ہو۔ ہدایہ میں ہے: لأن مالهم مباح فی دار هم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) در مختار میں ہے: ”ولو بعقد فاسد او قمار ثمه (۲) واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈپو، نو محلہ، بریلی سے طلب کیجئے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ