کس کس کے درمیان سود تحقیق اور کن کے درمیان سود نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں کہ : بینک اور ڈاکخانے میں جو روپیہ رکھتے ہیں وہ روپیہ رکھتے سے گورنمنٹ سود دیتی ہے، تو یہ سود کا روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ تعلق واگور یا ضلع بڑودہ گجرات میں سنیوں کی تعداد ۹۰ر فیصد ہے اور ۱۰ر فیصد مجدی ہیں سب سنی آپس میں لڑ رہے ہیں نجدی اور کچھ سنی بھی کہتے ہیں کہ سرکار کے بینک سے سود لینا حرام نا جائز ہے۔سود کا روپیہ بینک والے کو دے دینا چاہئے ، ان سے تعاون حرام ہے اس مسئلہ کے فیصلہ کے بارے میں بریلی شریف خط لکھ دیا ہوں اس کا جواب جلد دیں مہربانی ہوگی حسینی کھیلی واگور یا کی طرف سے سلام و عقیدت ہے اس فتویٰ کا جواب دلیل کے ساتھ دیں شکر گزار بنوں گا یہ معاملہ اس وقت اُٹھا جبکہ مدرس گلشن رضا حسینی کمیٹی نے بنوانا چاہا اور اس مدرسے کے نام سے چندا ہوا تو اس کا روپیہ بینک میں رکھا
الجواب: بینک سے جو زیادتی ملتی ہے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ سود مسلم ومسلم یا مسلم وذمی کے درمیان ہوتا ہے اور کفار زمانہ میں نہیں تو ان سے معامت میں سود تحقیق نہیں ۔ لہذا مسلم کو بے ذلت نفس و بے بد عہدی جو کچھ کا فر کی خوشی سے ملے، خالص مباح ہے اگر چہ عقود فاسدہ سے حاصل ہو۔ ہدایہ میں ہے: ”لأن مالهم مباح فی دار هم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) در مختار میں ہے: ”ولو بعقد فاسد او قمار ثمه (۲) واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈپو، نو محلہ، بریلی سے طلب کیجئے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ