وکیل کا فعل موکل پر لازم ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور عمر کے درمیان ایک گھوڑ ا خریدنے کی بات طے ہوئی، قیمت تین ہزار مقرر کی گئی۔ زید نے عمر سے کہا کہ گھوڑا ہم کو آپ خرید کر لا دیجئے ، ہم لوگوں کو اعتراض نہ ہوگا، بوقت گفتگو بات اس پر کی گئی کہ گھوڑ اسفید رنگ، اچھے بدن ، خوب موٹا تازہ ہوگا، قیمت پونے تین ہزار سے زائد نہ ہوگی ، اس سے زیادہ میری ذمہ داری نہ ہوگی۔ بوقت گفتگو مبلغ چار سو روپے بطور بیعانہ کے دیے گئے ۔ بعد کہا کہ جب گھوڑ اخرید کر عمرو کے پاس حاضر کر دیا جو کہ رنگ بدن اور تیزی میں کوئی کمی نہیں ہے تو عمر و نے زید سے کہا کہ گھوڑے کا بناؤ سنگار کرا دو جو پیسہ اس میں لگے مجھ سے لو۔ لہذا عمرو نے زید کو مبلغ چھ سو روپے بعد دیے۔ زید نے وہ روپیہ بھی گھوڑے کے بناؤ سنگار میں صرف کردیا اور گھوڑ اعمرو کے حاضر خدمت کر دیا اور پورے پیسے کا مطالبہ کیا تو عمرو نے گھوڑا لینے سے انکار کر دیا۔ بعد کہتا ہے کہ گھوڑا ہم کو نہیں چاہئے ۔ اب زید بہت زیادہ پریشان ہے۔ عمرو گھوڑا لینے کو کسی صورت پر تیار نہیں ہے۔ زید کی تجارت بھی اسی وجہ سے رکی ہوئی ہے قریب دو ہزار نقصان بھی ہوا ہے۔ زید عمرو کے بیعانہ والے پیسہ سے منکر ہو گئے اور دینے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔ لہذا اس صورت میں زید کوعمرو کا پیسہ لے لینا جائز ہے یا نہیں؟ زید عمروکا پیسہ لے سکتا ہے یا نہیں؟ از روئے شرع جواب سے آگاہ فرما ئیں اور عنداللہ ماجور ہوں ۔ ان صورتوں میں کیا سزا ہونا چاہئے اور زید کو اس کا بیعانہ روپیہ رکھ لینا چاہئے یا نہیں؟ جواب سے جلد آگاہ فرما ئیں ۔ المستفتى : صلاح الدین موضع ڈھیر وا ضلع گونڈہ
الجواب: صورت مسئولہ میں عمروز ید کا وکیل ہے اور وکیل کا تصرف مؤکل پر لازم ہے لہذا زید پر لازم ہے کہ اپنے اس مطلوبہ کیفیت کے گھوڑے کو لے اور بے وجہ شرعی اسے رد کا اختیار نہیں۔ نہ اس سے زید کو بیعانے کی رقم کا مطالبہ پہنچے کہ وہ اس نے اس کی اجازت سے اسی کے کام میں خرچ کی۔ ہاں اگر مؤکل نے جو شمن مقرر کی تھی یہ اس سے زیادہ پر خرید لایا تو بلاشبہ یہ تصرف اس پر لازم ہے اور اب اسے رد بیج و مطالبہ رقم کا حق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ