زائد مال کی واپسی، بینک انٹرسٹ، اور شہر میں متعدد جگہ جمعہ کے قیام کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ کے بارے میں کہ: (۱) زید ریڈ میڈ کپڑے کا کاروبار کرتا ہے اور ہمیشہ ہندو مہاجن سے مال ادھار باقی لاتے رہتا ہے۔ درمیان ایک دو سال کچھ رقم کا مال غلطی سے زید کے پاس زائد چلا آیا، زید ہر وقت منتظر رہا کہ شاید اس رقم کا تقاضہ ہو لہذا آج تک اس رقم کا تقاضہ ہوا ہی نہیں اس صورت میں اس رقم کو اپنے تصرف میں لا سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ اب اپنے سے واپس کرنا خطر ہ سے خالی نہیں۔ (۲) بینک سے روپیہ سود پر لے کر کاروبار کرنا یا بینک میں روپیہ رکھنا اور اس کا سود لینا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں اس کو سود نہیں کہتے ہیں بلکہ انٹرسٹ کہتے ہیں۔ (۳) عید کے موقع پر سودی روپیہ لے کر تجارت کرنا کیسا ہے؟ (۴) زید اپنے دانش سے پائی پائی زکوۃ نکالتا رہتا ہے مگر پھر بھی زید کے مال کو چوہا خراب کرتا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ (۵) یہاں ایک ہی جامع مسجد ہے اور دوسرا جمعہ قائم کرنے کو کوئی جائز قرار دیتے ہیں اور کوئی ناجائز جبکہ یہاں کوٹ کچہری بلکہ میونسپلٹی بھی قائم ہے اور یہ شہر سبڈیو یزن بھی ہے، ایسے شہروں میں دوسرا جمعہ قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ دوسری مسجد بھی پختہ بنی ہوئی ہے۔ المستفتی: صادق احمد یوسفی الرشیدی اسلام پور ضلع مغربی دیناج پور ( بنگال)
الجواب: (۱) زید پر لازم ہوا کہ وہ مال مہاجن کو واپس کرتا یا اگر پاس رکھنا چاہا تو اسے اس کی قیمت دیتا۔ زید نے اسے خبر ہی نہ کی تو اس کا ہر وقت منتظر رہنا کیا معنیٰ اور واپس کرنے میں خطرہ کیا ہے؟ زید پر ضرور ہے کہ مہا جن کو مطلع کر دے اور اس کی حسب طلب وہ مال یا اس کی قیمت اس کو دے دے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۳۲) بے ضرورت شرعیہ بینک کو یا کسی کا فر حربی کو قرض پر زیادتی دینا حرام ہے، اگر چہ یہ سود نہیں کہ سود مسلمان و مسلمان یا مسلمان وذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے اور ضرورت شرعیہ ہو تو حرج نہیں اور کفار زمانہ سے جو زیادتی بے غدر شرعی ان کی خوشی سے ملے وہ خالص مباح ہے اسے سود سمجھنا جائز نہیں ۔ یہی حکم بینک سے حاصل شدہ منافع کا ہے۔ تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے منگا کر دیکھیں۔ وہو تعالیٰ اعلم (۴) لا پرواہی۔ و ہو تعالی اعلم (۵) دوسرا جمعہ قائم کرنے کی ضرورت ہو تو قائم کر سکتے ہیں۔ بے ضرورت قائم نہ کریں کہ تفریق جماعت ہوگی جوشر عامذموم ہے۔ وہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہر قادری غفرلہ ۲۹ شوال المکرم ۱۴۰۲ صبح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف