ہندوستانی بینک سے ملنے والی زائد رقم (سود) کے شرعی حکم اور اس کے استعمال کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے فحول ومفتیان ذوی العقول مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے ملک ہندوستان میں بینک اور ڈاکخانہ میں جمع شدہ رقم پر جور قم اصل روپے سے زائد بنام سود دی جاتی ہے، عند الشرع اس رقم کا استعمال اپنی ذات کے واسطے درست ہے یا نہیں؟ نیز اسی رقم کو سود سے تعبیر کرنا اور پھر اسی رقم کے استعمال کو نص قرآنی وحرم الربو} کے ہوتے ہوئے جائز قرار د یا محض اس بنا پر کہ اگر وہ رقم بینک اور ڈاکخانہ سے وصول نہ کی جائے تو پھر وہ رقم اسلام کے خلاف امور میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ عند الشرع کیا ہے؟ زید کہتا ہے کہ مذکورہ رقم امور دینی و مذہبی میں یا غرباو مساکین پر خرچ کر دی جائے لیکن اپنی ذات کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں البتہ ان علماء کے نزدیک جائز ہے جو ہندوستان کو دارالحرب کہتے ہیں۔ بینوا توجروا
وہ رقم خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ کفار زمانہ حربی ہیں اور حربی اور مسلم کے درمیان ربا نہیں ہوتا اور سبب اس کا یہ ہے کہ عصمت نفس کے تابع ہے اور شرعا مسلم وذمی ومستامن کے سوا کوئی معصوم نہیں بلکہ جو ان کے سوا ہے، نرا ربی ہے اور جس قرآن نے {حرم الربو} فرمایا اس نے حربی سے جہاد وقتال و اخذ اموال کا حکم سنایا۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ - الآية } (1) (1) سورة التوبة:٧٣ و قال تعالى: وَقَاتِلُوهُمْ - الآية )) وقال تعالى: فَكُلُوا مِمَّا غَنِبُتُمُ - الآية (۲) اور اسی حکم جہاد وقتال نے صاف بتایا کہ شرعاً حربی کانفس معصوم نہیں بلکہ مباح ہے تو بالضرورة ان کا مال مباح ہوا خواہ وہ کسی طریق سے مسلم کو ملے ۔ اسی لئے ہدایہ وغیر ہا میں فرمایا : " لان مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم ،، اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (۳) اور ظاہر عبارت سے وہم ہوتا ہے کہ اباحت دار الحرب میں ہے مگر یہ حکم ہرگز دارالحرب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ حربی خواہ دار الحرب میں ہو یا دارالاسلام میں، اس کا مال بوجہ عدم عصمت دم مباح ہے اور یہ حکم کیونکر خاص مکان دون مکان ہوگا حالانکہ قرآن عظیم نے حکم جہاد مطلق فرمایا تو کفار کو مطلق بلا تعیین جہات و مکان غیر معصوم ٹھہرایا۔ قال تعالی: فَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ - الآية (٢) اور جب حربی کا نفس و مال مطلقا ہر جگہ غیر معصوم تو اس کے ساتھ رہا کہیں متحقق نہیں ہو سکتا کہ رہا کے لئے مال معصوم شرط ہے۔ ردالمحتار میں ہے: فتاوی رضویہ میں ہے: شرائط الرباعصمة البدلين (ه) لان الربا انما یکون فی مال معصوم (۶) (۱) (۲) سورة البقرة:١٩٣ سورة الانفال: ۶۹ (۳) الهداية، كتاب البيوع ، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات (۴) سورة البقرة: ١٩١ (۵) ردالمحتار، کتاب البيوع، باب الربوا، ج۷، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية بيروت (۶) العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۱، ص ۳۶۸، برکات رضا، گجرات یہاں سے بحمدہ تعالی سائل کے اس شبہ ( کہ اس رقم کے استعمال کو نص قرآن "وحرم الربوا" کے ہوتے ہوئے جائز قرار دیا ) کا ازالہ ہو گیا اور ہم نے جو آیات تلاوت کیں ان سے صاف ظاہر ہوا کہ کفار کے نفوس و اموال مباح تو حرم الربوا “ ضرور اموال معصومہ کے ساتھ خاص اور اموال معصومہ، مسلم وذمی ومستامن ہی کے ہیں نہ کہ حربی کے اور انہی آیات نے بتایا کہ اباحت کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں اور حیث ثقفتموهم “ نے تو عموم امکنہ پر نص ہی فرمادی۔ اب اس نص کے ہوتے ہوئے ” فی دارهم اور فی دار الحرب“ کی قید سے دھو کہ کھانا معاذ اللہ صریح اطلاق قرآن کو بے دلیل شرعی مقید کرنا ہے اور خود فقہائے کرام کی عبارات سے ناواقفی بلکہ ان کا کلام نہ سمجھنا ہے۔ حق یہ ہے کہ ”فی دار الحرب“ کی قید محض اتفاقی اور بیان واقع کے لئے ہے، احترازی نہیں اس لئے کہ عقلاً وشرعاًیہ بات کوئی معقول و مقبول نہیں کہ حربی محض دار الحرب میں نہ ہونے سے حربی نہ رہے ورنہ لازم آئے گا کہ حربی با عیال دار الاسلام میں داخل ہو اور بے عقد امان مثل مستامن محفوظ و مامون قرار پائے اور یہ عظیم قباحت اور شنیع سفاہت ہے جس سے ہماری شریعت مطہرہ منزہ ہے واللازم باطل فالملزوم مثله‘ تو بحمدہ تعالیٰ خوب ثابت و مبرہن کہ نر احر بی جہاں ہو، حربی ہے اور اس کے اموال کا وہی حکم دار الاسلام میں بھی باقی جودارالحرب میں تھا لہذا اس سے ایک روپیہ کے عوض دور و پیہ لینا جائز اگر چہ وہ دارالاسلام میں ہو اور اگر قید مذکور اتفاقی نہ ہوتی تو دار الاسلام میں حربی کا مال معصوم ہونے کے لئے مستامن ہونے کی شرط کیا ضرور تھی ؟ تو اس شرط عقد امان سے ظاہر کہ حربی اگر دارالاسلام میں بے عقو دامان داخل ہو یا اس کی مدت امان گزر جائے اور وہ نیا عقد امان نہ کرے اس کا مال دار الحرب کی طرح غیر معصوم ومباح التناول ٹھہرے گا اور اس پر تغلب جائز ہوگا تو بدرجہ اولیٰ حربی اگر اپنی خوشی سے مسلم کو کچھ دے،ضرور اسے مباح ہوگا۔ یہی مفاد ہے ہدایہ کی اس عبارت کا جو عبارت گزشتہ کے متصل فرمائی: بخلاف المستامن منهم لان ماله صارمحظورا بعقد الامان (۱) اور عنایہ میں اسی کی تصریح فرمادی: و نصه قوله (بخلاف المستامن جواب عن قياس و تقريره ان المستامن منهم في دارنا لا يحل لاحد اخذ ماله لانه صار محظورا بعقد الامان ولهذا لا يحل تناوله بعد انقضاء المدة (1) نیز ہماری تلاوت کردہ آیات سے اس شبہ کا جواب بھی ہو گیا جو کتب فقہ میں مسطور ہے اور وہ یہ کہ حربی سے زیادتی لینے کی اباحت میں جو حدیث : لاربا بين المسلم والحربي في دار الحرب ذکر کی جاتی ہے، خبر واحد ہے اور {لا تأكلوا الربا حکم قرآن مطلق ہے اور مطلق کو خبر واحد سے مقید کرنا جائز نہیں اور جواب یہ ہے کہ تلاوت شدہ آیات سے معلوم ہوا کہ {لا تأكلوا الرباہ وغیرہ میں تحرم ربوا اموال غیر معصوم (اموال کفار ) سے متعلق نہیں بلکہ اموال معصومہ سے متعلق ہے تو یہ نصوص اموال کفار کو شامل ہی نہیں کہ خبر واحد سے مفہوم کتاب پر زیادتی لازم آئے اور نیز کھلا کہ حدیث مذکور اگر نہ ہوتی تو یہی آیات حربی سے زیادتی لینے کے جواز کے لئے تھیں اسی لئے فتح القدیر میں فرمایا : وقد يقال لو سلم حجيته فالزيادة بخبر الواحد لا تجوز واثبات قيد زائد على المطلق من نحو لا تاكلوا الربا ونحوه هو الزيادة فلا يجوز ويدفع بالقطع بان المطلقات مراد بمحلها المال المحظور بحق لمالكه ومال الحربى ليس محظور الالتوقى الغدر وهذا التقدير في التحقيق يقتضئ انه لو لم يرد خبر مكحول اجازه النظر المذكور أعنى كون ماله مباحا الالعارض لزوم الغدر - الخ (۲) اور جب یہی آیات ہمارے مدعا کے لئے بس تو مدار کارا نہی پر ہے اور حدیث مذکور محض ان آیات کے مفاد اور مفاد کی تصریح کے لئے آئی اور جب مدار کار ان آیات پر ہے اور وہ مطلق ہیں تو مطلق کو اپنے اطلاق پر باقی رکھنا لازم پھر یہ امر مقرر ہے کہ احکام الہیہ کسی خاص جگہ کے لئے نہیں ہوتے ورنہ لازم آئے گا کہ ان دو مسلمانوں کے درمیان رہا جائز ہو جائے جو دار الحرب میں آئے ہوں حالانکہ یہ اجماعاً حرام ہے تو معلوم ہوا کہ زمین کو ثبوت حرمت میں کوئی دخل نہیں اور مدار حرمت جیسا کہ گزرا، اسی عصمت پر ہے تو جہاں عصمت پائی جائے گی وہاں غیر شرعی طریقہ سے اخذ مال ناجائز وحرام ہوگا اور جہاں عصمت معدوم ہوگی وہاں بے عذر شرعی یہ مال مباح ہوگا اگر چہ عقود فاسدہ سے حاصل ہو، اور بیہ اس لئے کہ یہاں حربی سے عقد فاسد مقصود نہیں۔ ہاں ، وہ حربی کی نیاز مندی کے لئے جس سے عذر شرعی منتفی ہو جائے ،ضرور وسیلہ ہے۔ یہ خلاصہ ہے سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کلام کا جوجد الممتار حاشیہ ردالمحتار میں ہے: وہذا نصه برأمنه اقول احکام الله تعالى لا تختص بارض دون ارض والالجاز الربا بين المسلمين دخلا دار الحرب مع حرمته اجماعاً فعلم ان الارض لا مدخل لها وانما المبنى كون المال معصوما فحيث وجدت العصمة حرم الاخذ بوجه غير مشروع و حيث عدمت حل ما لم يكن غدراً و ذلك لانه ليس العقدح مقصود اوانماهو وسيلةالى تحصيل الرضا المعدم الغدر فلذا جاز اخذ مال مسلم اسلم فی دار الحرب ولم يهاجر الينا بعقد فاسد ولم يجز اخذ ماله اذا هاجر ثم عاد لثبوت العصمة ههنا لا فى الصورة الاولى واذا قد ثبت ان المدار ثبوتها ولا مدخل فيه للارض فالظاهر جواز اخذ مال حربی سکن دار الاسلام بغیر عقد امان منافان ماله مباح قطعا لما تقدم من ان مال الحربي مباح الا للغدر وحيث كان مباحا لم يتناوله النصوص الواردة في تحريم الربا مثلا لكونها في الاموال المحظورة خاصة كما تقدم عن المبسود فليحروا ) واللہ تعالیٰ اعلم زید کا قول غلط ہے اور اس کے وہم زعم کا بطلان ہمارے بیان سے ہو چکا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہء صبح الجواب وصاب الحبيب و اللہ تعالی اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی بہاء المصطفیٰ قادری