نوٹ کی خرید و فروخت کا حکم اور مضاربت کی شرائط کا تفصیلی بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1) نوٹ کی خرید و فروخت کے سلسلہ میں شرع اقدس کا کیا حکم ہے؟ وضاحت کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ (۲) مضاربت کے لئے کیا کیا شرائط ہیں؟
الجواب: المستفتی : حاجی تجمل حسین پھر ڈیہہ، ڈاکا نہ آنجہ مو بیا ضلع پورنیہ (بہار) (1) نوٹ کی خرید وفروخت بہ تفاضل و بلا تفاضل بہر طور جائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے: لوباع كاغذة بالفيجوز ولا يكره به (1) تفصیل کے لئے رسالہ اعلیٰ حضرت کفل الفقیہ الفاہم دیکھا جائے ۔ واللہ تعالیٰ ا (۲) اور اُس المال از قبیل شمن ہو اور اس ثمن کا رواج ہو ، عروض کی قسم ہو تو مضاربت صحیح نہیں۔ ۲ رأس المال معلوم ہو۔ ۳ / راس المال عین ہو یعنی معین ہو وہ نہ ہو جو واجب فی الذمہ ہوا ہے۔ ۴ رأس المال مضارب کو دے دیا جائے یعنی اس کا پورے طور پر قبضہ ہو جائے۔ رب المال کا بالکل قبضہ نہ رہے۔ ۵ نفع دونوں کے درمیان شائع ہو مثلا نصف نصف یا دو تہائی ایک تہائی یا تین چوتھائی ایک چوتھائی اس طرح حصہ معین نہ کیا جائے جس میں شرکت قطع ہو جائے گا۔ احتمال مثلاً یوں کہہ دیا کہ میں سو روپیہ لوں گا اس میں ہوسکتا ہے کہ کل نفع سو ہی ہو یا اس سے بھی کم ، دوسرے کی نفع میں شرکت کیونکر ہوگی۔ ۶ / ہر ایک کا حصہ معلوم ہو لہذا ایسی شرط جس کی وجہ سے نفع میں جہالت پیدا ہو، مضابت کو فاسد کر دیتی ہے مثلاً اگر زید کے ساتھ بلا یقین یہ شرط کہ تم کو آدھا یا تہائی نفع دیا جائے گا۔ے رمضاربت کے لئے نفع دینا شرط ہو اگر راس المال میں سے کچھ یا راس المال اور نفع دونوں میں سے کچھ دینا شرط ہوتو مضاربت فاسد ہے۔ (1) فتح القدير، كتاب البيوع، باب الكفالة ، ج ۷، ص ۱۹۸ ، برکات رضا، گجرات بہار شریعت مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی