بینک کے اضافے کا مصرف، مشکوک النسب کی امامت اور قبرستان کے پاس تعمیر مدرسہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں: (1) بینک میں جو روپے رکھے جاتے ہیں اس کا سود جوملتا ہے اسے کس ضرورت میں صرف کیا جائے۔ کیا یہ پیسہ مدرسے میں لگا سکتے ہیں؟ (۲) زید نطفہ نا تحقیق سے ہے تو کیا از روئے شرع زید کے لڑکے بکر کے پیچھے نماز جائز ہے؟ (۳) کیا قبرستان کے قریب یا قبرستان پر مکتب ادارلعلوم کی تعمیر ہوسکتی ہے؟ زید کہتا ہے کہ قبرستان کے قریب مکتب یا دارالعلوم تعمیر کر ناجائز نہیں ہے اس لئے کہ قبروں پر لوگ آئیں گے اور جائیں گے، قبر والوں کو تکلیف اور بے ادبی ہوگی ۔ ازروئے شرع مع حوالا جات بہت جلد جواب ارسال فرمایا جائے۔ المستفتی: محمد سمیع نوری نعیمی خادم دارلعلوم فیضان نوری ، پوسٹ برجمن گنج ضلع گورکھپور (یوپی)
الجواب: (1) وہ رقم سود نہیں بلکہ خالص مباح ہے کہ حربی کا مال ہے جو محض اس کی رضا سے بے غدر و بدعہدی مسلم کو ملتا ہے اور ایسا ہر مال مسلم کو حلال ، اسے ہر جائز کام میں خرچ کرنا جائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز ہے جبکہ جامع شرائط امامت ہو اور صحیح النسب اولی ہے اور وہ اہل نہ ہو تو یہی امامت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وقفی قبرستان میں مکتب یا مدرسہ بنانا حرام ہے اور قبروں پر اور بھی زیادہ حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۷ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی