امریکہ جیسے غیر مسلم ممالک میں حربی کافر سے سودی معاملے کی شرعی حیثیت اور اس کے شرائط
کا معاملہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر سودی قرض میں مسلمان اپنا مال معصوم کا فرحر بی کو دے رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا یہاں تو معاملہ دینے کا ہے لینے کا نہیں فقہ کے اس اصول کی بھی وضاحت فرما دیں۔ بینوا توجروا ضروری نوٹ: یہاں امریکہ میں مکان ، کار، گاڑی اور کاروبار وغیرہ جو کہ شخصی ضروریات نہیں ہیں بغیر سودی قرض لئے مسلمان یہاں پر رہ تو سکتا ہے لیکن مشکل ہے ناممکن نہیں ہے البتہ دینی و اجتماعی ضرورت جیسا کہ مسجد، مدرسہ اور بچوں کے لئے اسلامی اسکول کے قیام کے لئے چندہ اٹھا کر یا اور پھر نقد Cash پر لینا بہت ہی مشکل قریب ناممکن ہے یہاں اکثر کا فروں کے اسکول ہیں یا پھر بد مذہب نجدی مودودی وغیرہ کے اسکول جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے ہیں سنیوں کے لئے بڑا ہی مشکل ہے۔ بینوا توجروا المستفتی: ڈاکٹر محمد خالد رضا، شکاگو(امریکہ)
الجواب: سود حرام قطعی ہے، مسلم خواہ کا فرکسی سے سود کا معاملہ جائز نہیں مگر سود کے تحقیق کے لئے شرائط ہیں جب وہ پائے جائیں گے سود متحقق ہوگا اور نہ نہیں، از آن جملہ عصمت بدلین ہے لہذا اگر ایک طرف مال معصوم ہو اور دوسری طرف مال غیر معصوم تو سود نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے: قال فى الشرنبلالية ومن شرائط الربا عصمة البدلين و كونهما مضمونين بالا تلاف احدهما وعدم تقومه لا يمنع فشراء الاسير أو التاجر مال الحربي والمسلم الذي لم يهاجر بجنسه متفاضلا جائز (1) اور یہ شرط فقہا کے نزدیک متفق علیہ ہے اسی لئے علامہ شامی نے اسے بے ذکر خلاف ذکر کیا اور فتح القدیر سے اس کا خلاف مفہوم نہیں ہوتا پھر یہ شرط نص "لار با بین المسلم والحربی “ میں جس طرح کی علت کا فائدہ دیتی ہے اسی طرح اس کے صریح مفہوم کے مطابق ہے کہ لانفی جنس کے لئے ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلم وحربی کے درمیان زیادتی کا لین دین سود نہیں ۔ ہاں مسلم کو زیادتی ملے تو یہ جائز ہے اور مسلم کو زیادتی دینا اور حربی وہ زیادتی مسلم سے لے تو یہ بھی اگر چہ سود نہیں لیکن مسلمان کو جائز نہیں کہ بلاضرورت اور کچی مجبوری و حاجت صحیحہ شرعیہ کے بغیر عربی کو زیادہ دے کر نفع پہنچائے۔ (1) رد المحتار كتاب البيوع، باب الربا، ج۷، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت قال تعالى : إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِيْنَ قَتَلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ الآية (1) یہی مفاد فتح القدیر اور سیر کبیر کی عبارات اور مثال مذکور در عبارت شامی کا ہے، ان عبارتوں میں یہ نہیں کہ حربی کو زیادتی دینا ر ہا ہے۔ البتہ اس صورت میں جبکہ زیادتی مسلم سے حربی کو ملے ان عبارتوں میں حلت ربا و قمار کی تصریح کی ہے، اس صورت میں ان سے ربا و قمار حلال ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اصلار باو قمار نہیں بلکہ مال طیب و حلال ہے اور عقد جائز وصحیح ہے تو قطعا یہاں ربا و قمار محض نام کو بولا ہے اور حقیقت ربا کی نفی فرمائی ہے اور زیادتی جب حربی کو مسلمان سے ملے اس صورت میں رہا کا لفظ ان عبارتوں میں نہیں، ہاں اسے ناجائز فرمایا ہے اور نا جائز ہونا صورت رہا میں کچھ منحصر نہیں حربی کو نفع پہنچانا حرام ہے اگر چہ سود متفق نہ ہو۔ بالفرض یہاں بصورت دیگر لفظ ر با بولا جا نا ضر ورصورت ربا اور نام را پر محمول ہوتا اس لئے کہ شرط ر باسب کے نزدیک مفقود اور لائفی جنس کا صریح مفاد جانبین میں عدم تحقق رہا ہے جیسا کہ گزرا اور یہ مطلب ٹھہرانا کہ کافر کو زیادتی دی جائے تو سود ہے، مفہوم صریح نص کے خلاف اور اس میں وہ قید لگانا ہے جس کا لفظ مشتمل نہیں۔ لہذا یہ قید جب تک روایت میں ثابت نہ ہو ہمیں مجال نہیں کہ ثابت کریں۔ ہاں، بنام ربا عقد کی حلت ضرور اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ زیادتی مسلم کو ملے ورنہ حلال نہیں فتح القدیر میں اسی ایہام کو دفع فرمایا اور اسی جانب متنبہ فرمایا۔ اس مختصر تقریر کے بعد جواب صورت مسئولہ ظاہر اور وہ یہ کہ شرعی ضرورت یا حاجت خواہ دینی ہو یا شخصی ( دنیوی) اگر متحقق ہو تو بینک وغیرہ یا انفرادی طور پر کسی کافر سے ایسا قرض لینا جائز ہے۔ اشباہ وغیرہ میں ہے: ”الضرورات تبيح المحظورات (۲) نیز ارشادی باری تعالی ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ الآية (۳) اور جو زیادتی انہیں دینی پڑے وہ سود نہیں اور ضرورت شرعیہ اور حاجت صحیحہ جس میں حرج شدید لاحق ہو یا اس کے بغیر چارہ نامعلوم ومحسوس ہو، محض کاروبار بڑھانا کوئی شرعی ضرورت ہے نہ حاجت ہے یونہی بہت سی غیر شرعی ضرورتیں اور غیر شرعی امور نا قابل اعتبار ہیں اور دفع ذلت وطعن اور سرخروئی چاہنا کوئی شرعی حاجت نہیں ۔ حدیث شریف میں ہے: فضوح الدنيا اهون من فضوح الآخرة (1) دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے ہلکی ہے۔ ایسی نام کی ضرورتوں میں جن کے بغیر چارہ ہو، ان سے قرض لینا اور انہیں زیادہ دینا حرام ہے کہ حربی کا فر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔ واللہ تعالی اعلم اس سوال کا جواب بھی مندرجہ بالا میں گزرا اور وہ یہ کہ زیادتی بوجه عدم تحق شرط ر با سود نہیں لیکن بے حاجت صحیحہ زیادہ دینا حرام اور عند الحاجہ اجازت۔ اور حرام ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوئی اور سود نہ ہونے کی وجہ دار الحرب نہیں کہ احکام شرعی دار دون دار کسی خاص جگہ کے ساتھ اپنے اطلاق پر نہیں۔ مسلم حربی (جو دارالحرب میں مقیم ہو اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر کے نہ آئے ) کا مال مسلم کے لئے مباح ہے لہذا ایک مسلم کو حربی مسلم سے جو زیادتی ملے ، حلال ہے۔ جس کی تصریح او پر گزری۔ واللہ تعالیٰ اعلم اس سوال میں مذکور بیشتر باتوں کا جواب ابھی گزرا۔ ہر مسلمان کا مال محض اسلام لانے سے معصوم نہیں ہو جاتا ، دارالحرب میں اگر کوئی اسلام لائے تو اس کا مال معصوم نہ ہوگا۔ اس مضمون کا فائدہ دینے والی عبارت او پر گزر چکی ۔ ہاں جو دارالاسلام میں اسلام لا یا اور وہیں رہا اس کا مال ضرور معصوم ہے اور مسلم حربی کے مال کا غیر معصوم ہو نا محض اس صورت سے خاص نہیں کہ دارالحرب میں ہے بلکہ بالفرض اگر وہ دارالاسلام میں اپنے کسی کام کی وجہ سے ہو اور دارالحرب سے ہجرت کر کے مستقل وہاں نہ رہتا ہو بلکہ دارالحرب میں جانے کا قصد رکھتا ہو اس صورت میں بھی اس کا مال مال معصوم نہیں اس میں قرینہ واضحہ عبارت گزشتہ میں یہ ہے کہ فرمایا : وو و المسلم الذى لم يهاجراى الذى اسلم في دار الحرب - تكملة “(۲) (۱) فيض القدير شرح الجامع الصغير حرف الفاء، ج ۴، ص ۵۸۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار، کتاب الهبة ، ج ۱۱، ص ۶۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت معلوم ہوا کہ حربی من حیث الحربی کے مال کا حکم کہ عدم عصمت ہے ”داردون دار“ کے ساتھ خاص نہیں اور مسلم حربی اگر کافر سے زیادتی کا لین دین کرے تو دونوں جانب عصمت نہیں ۔ لہذا شرط ربا تحقق نہیں تو رہا نہیں البتہ زیادتی لینا مباح اور دینا حرام کمامر۔ واللہ تعالی اعلم حربی سے بنام ربا و بنام عقد فاسد جو کچھ بلا غدر و بد عہدی ملے مسلم کو مباح ہے۔ لان مالهم مباح فی دار هم فبای طریق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر کذافی الهدایه ) در مختار میں ہے : ولو بعقد فاسداو قمار (۲) اور زیادہ دینا حرام مگر اس پر سود کا اطلاق نہیں لانعدام شرطه کما مر غیر مرۃ اور مسلم کا مال معصوم ہو نا ہر جگہ مطرد نہیں مسلم حربی کا مال معصوم نہیں کما مر غیر مرۃ تو اس صورت میں دونوں طرف عصمت مفقودتور با غیر موجود اور جہاں اس کا مال معصوم ہو اس صورت میں بھی کا فر حربی سے یہ معاملہ سود نہ ہوگا کہ عصمت بدلین تحقق ربا کی شرط ہے نہ کہ عصمت احد البد لین اور معاملہ کا جواز و عدم جواز اس تفصیل پر ہے جو گزری۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله نزیل بمبئی ، ۱۸ ؍ ربیع الآخر ۱۴۲۲ھ / ۱۰ / جولائی ۲۰۰۱ء صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ذالک کذالک انی مصدق لذالک۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی محمد ناظم علی بارہ بنکوی