سود خوری، فتنہ و فساد اور دیگر غیر شرعی کاموں میں ملوث شخص کو مقتدا و رہنما بنانے اور قرض دبا لینے کا حکم
(۱) ایک شخص سود لیتا ہے، گورنمنٹ سے دنیا بڑھانے کے لئے اور سود دیتا ہے۔ (۲) اس کے بچے ہندؤوں کے ساتھ ہولی کھیلتے ہوں اور طرح طرح سے مسلمانوں میں فتنہ فساد مچاتا ہو اور اسی فکر میں رہتا ہو کہ دو پارٹی ہوں تا کہ ایک پارٹی مجھے اپنائے اور خوب کھلائے پلائے۔ (۳) اپنے مفاد کی خاطر قوم کا بدل لینا، کہیں فقیر کہیں سید ۔ (۴) ایک شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ داڑھی منڈا اذان نہ دے چاہے مسجد ویران ہو جائے اور اس کی بات پر مسجد میں ایک ایک ہفتہ تک اذان نہ ہوتی ہو۔ (۵) ایسے شخص کا کیا حکم ہے دوسرے سے دھوکہ دے کر اور نمکین ہوکر پیسے لے لیا اور وعدہ کر کے کہ فلاں دن دوں گا مگر پھر دینے میں عیب سمجھتا ہو۔ (۲) اور کسی کے پیچھے چاہے عالم ہو یا مولوی جماعت سے نماز نہ پڑھتا ہو اور اپنے کو بہت افضل اور بہتر جانتا ہو۔ کیا حکم ہے؟ (۷) پڑوسی کی جان لینے اور مال غصب کرنے اور ہر ممکن طریقہ سے تکلیف دینے کی کوشش کرتا ہو۔ (۸) گاؤں میں اگر شادی میں لاؤڈ اسپیکر بج گیا تو اس کھانے کو حرام سمجھتا ہو اور بچوں کو کھانے کے لئے بھیج دیتا ہو۔ اور ان کے ذریعہ سے منگا کر خاموشی سے کھالیتا ہو۔ ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ (۹) جس میں تمام اوصاف ہوں اور خود اپنے لڑکے سے چوری کروا کے اور دوسرے کے خلاف رپٹ کرانا اور پھر مال اور اپنے لڑکے کو چھپا لینا یہ کہاں تک درست ہے کہ اپنی لڑکی کا ہندولڑکوں سے فوٹو کھنچانا اور وہ فوٹو گرافر نہیں صرف ان کے لڑکے کا دوست ہے ان کے گھر آتا جاتا ہے پھر ایسے شخص کو اپنا مقتدا اور رہبر ماننا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کہاں تک درست ہے؟ قومیت کا کوئی پتہ نہیں، کچھ موافق ہیں اور کچھ خلاف ہیں۔ اب ایسے شخص کو پیراپن بنانا مقتداماننا کہاں تک صحیح ہے؟ قرآن اور حدیث کی رو سے ماننے والے کیسے ہیں؟ تفصیل سے وضاحت فرما کر مشکور فرمائیں۔ جو شخص قرضہ لے کر واپس نہ دے تو کیا حکم ہے؟
الجواب: یہاں کی گورنمنٹ جو منافع دیتی ہے وہ سود نہیں ہے بلکہ مال مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں ہے۔ یہی حکم اس رقم کا ہے جو کفار زمانہ سے بغیر بد عہدی و بے ذلت نفس ملے کہ سود مسلمان و مسلمان اور مسلمان وذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے اور اب کوئی کا فرزمی نہیں ۔ لہذا ان سے جو کچھ مسلمان کو جس طرح ملے، جائز و مباح ہے، بشرطیکہ بدعہدی نہ ہو۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) صورت مسئولہ میں اس شخص پر اس وجہ سے الزام نہیں اور وہ اصل رقم پر منافع و زیادتی لینے و دینے کا معاملہ کن لوگوں سے کرتا ہے؟ لکھ کر دوبارہ جواب حاصل کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ہولی وغیرہ مشرکوں کے تہواروں میں شرکت بہت سخت ہے جس سے تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان وغیرہ بھی ضروری ہے وہ شخص اگر بچوں کے اس فعل سے راضی ہے اور اسے مقرر رکھتا ہے، بچوں کو باز نہیں رکھتا تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو ابھی تحریر ہوا۔ اور بچے سمجھوال ہیں تو وہ بھی تو بہ وتجدید ایمان کریں اور فاسق کی اذان مکروہ و ممنوع اور اس کا اعادہ چاہیے اور داڑھی منڈا فاسق معلن ہے اس سے منع کرنا صحیح ہے اور مسجد کا ویران ہونا اس سے کیونکر لازم آتا ہے؟ دوسرا غیر فاسق اذان دے اور اذان ترک نہ کریں ور نہ پورے محلہ والے سخت گنہ گار مستوجب نارہوں گے اور اس شخص کے بیشتر افعال مذکورہ سخت ناجائز و حرام ہیں۔ بر تقدیر صدق سوال و ثبوت جرائم وہ سخت فاسق و بدکار ہے۔ افعال بد سے تائب ہو ورنہ اسے مسلمان چھوڑ دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ محرم الحرام ۱۴۰۱ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات