کافر حربی سے بڑھتی رقم لینا کیسا ہے اور سلام سے متعلق مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (1) جو لوگ بینک یا پوسٹ آفس میں روپے جمع کرتے ہیں اپنی ضرورت میں کام آنے اور حفاظت کے لئے بھی اس پر بینک یا پوسٹ آفس والے بڑھا کر روپے دیتے ہیں لوگ بڑھتی رقم کو سود کہتے ہیں۔ دریافت طلب ہے کہ عربی لوگوں سے بڑھتی رقم لینا جس کو وہ خوشی سے دیتے ہیں کیا واقعی سود ہے یا مسلمانوں کے لئے جائز ہے جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) کسی میلاد کی محفل میں زید و بکر دونوں بھائی موجود تھے میلاد میں کھڑے ہو کر زید نے سلام پڑھا بعد میں بکر نے بھی سلام پڑھا تو اب زید کا کہنا ہے کہ جب ایک شخص نے سلام پڑھا تو دوبارہ دوسرے شخص کو سلام پڑھنا درست نہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟ (۳) بہت سے مسلمان جو انگریزی بال رکھتے ہیں ، داڑھی منڈاتے ہیں، وضع قطع مسلمان کی طرح نہیں اور با شرع مسلمان کو یہ لوگ تنقید کرتے ہیں کہ سلام کرنے کی عادت نہیں۔ لہذا اسلامی نقطہ نظر سے کن لوگوں کو سلام کیا جائے؟ فقط والسلام
الجواب: (1) وہ رقم خالص مباح ہے، سود نہیں ، نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے کہ حربی کا فر سے جو کچھ مسلم کو بے غدرو بدعہدی محض اس کی خوشی سے ملے، جائز و حلال ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیہ غدر (1)۔ واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے رسالہ بینک، قادری بکڈ پونومحلہ مسجد بریلی سے منگا کر دیکھیں۔ (۲) اس شخص کا قول ہی نا درست ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) فاسق معلن کو سلام کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ در مختار میں ہے : ویکرہ علی الفاسق لو معلنا‘ (۲) وہ لوگ فاسق معلن ہیں، سلام کے مستحق نہیں ، سلام با شرع لوگوں کو کرنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۲ / رمضان المبارک ۱۴۰۳ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی