ثمن ادھار ہونے پر کیا بائع مبیع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ: عمرو ایک مکان زید کے نام فروخت کر رہا ہے ۴۹ / ہزار روپیہ میں، زید کے پاس ۱۹ ہزار روپیہ کم ہے۔ یہ مکان کرایہ پر اٹھا ہوا ہے، زید کا کہنا ہے کہ دو سال میں یہ روپیہ عمرو کو ادا کردوں گا اور جب تک روپی ادا نہیں کروں گا، ایک حصہ مکان کا کرایہ عمر کو دیتا رہوں گا۔ جو چالیس روپیہ ماہوار کا اٹھا ہوا ہے۔ باقی حصہ میں زید ر ہے گا۔ اس مکان کا پورا بیع نامہ زید کے نام کر کے عمر و چالیس روپیہ ماہوار کرائے کا وصول کرنے کا حق رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ المستفتی: حاجی ڈاکٹر سید اشرف علی
الجواب: صورت مسئولہ میں اجارہ مذکورہ وبیع مذکور ، دونوں فاسد ہیں کہ شرعاً ایک عقد میں دو عقد کرنا منع ہے۔ حدیث پاک میں ہے: نهی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن صفقتين في صفقة (1) پھر جبکہ وہ پورا مکان زید سے بیچے گا اور ثمن مکان میں سے کچھ بذمہ زید قرض ہوگا تو یہ صورت قرض سے انتفاع کی ہوگی اور یہ نا جائز ہے۔ (1) مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، باب ماجاء في صفقتين في صفقة او الشرط في البيع، ج ۴، ص ۸۴، دار الفکر، بیروت حدیث شریف میں ہے: کل قرض جرمنفعة فهور با ابتداء (1) کل مکان نہ بیچے بلکہ اتنا ہی حصہ فروخت کرے جتنے کی قیمت نقد زید سے مل رہی ہے۔ باقی حصہ میں زید کو کرایہ دار بنائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ