لائف انشورینس، بینک یا حکومت سے جو زائد رقم ملے اس کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: لائف انشیورینس میں یا سرکاری ملازموں کی تنخواہ کچھ حکومت کاٹ کر جمع کرتی ہے بعض میں رقم کچھ قسطوں میں یا ملازم کے ریٹائر ہونے پر کل رقم سے کچھ زائد رقم یعنی مع بیاج (سود ) کے لوٹا دیتی ہے۔ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ جوز ائد رقم ملتی ہے وہ بیان نہیں کیونکہ حکومت ہماری اس رقم کو ملک کے تعمیری اور تعلیمی کاموں میں لگاتی ہے اور اس سے جو منافعہ ملتا ہے اس میں کچھ حصہ ہم کو دیتی ہے ۔ آیا کہ ی زائد رقم بیان ہے یا اس کو منافع سمجھا جائے ؟ اگر یہ سود یا بیاج ہو تو اس زائد رقم کا کیا استعمال کیا جائے؟ کیا یہ رقم دینی مدرسوں اور مسجدوں میں دی جاسکتی ہے؟ اس میں یہ خیال رہے کہ حکومت اس زائد رقم کو بیاج بتا کر ہی دیتی ہے اگر کوئی کمپنی یا لائف انشیو ریس بیاج نہ بتا کر منافع بتا کر رقم چکاتی ہے تو کیا اس رقم کو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے صرف کیا جا سکتا ہے؟ اس منافع (بونس) کی در ( مقدار ) منافع کے حساب سے گھٹتی بڑھتی رہتی ہو تو کیا حکم شرعی ہے؟ المستفتی: محمد صالح احمد (کرناٹک)
الجواب: وہ زیادتی جو اصل رقم پر حکومت یا کمپنی (جو خالص مشرکین کی ہے ان میں کوئی مسلمان حصہ دار نہیں ہے) دیتی ہے، سود نہیں نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے کہ سود مسلمان مسلمان یا مسلمان اور ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے، حربی کافر ( اور وہ یہ ہے کہ کسی حکومت اسلامیہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ بہ عوض جزیہ کے نہ لیا ہو اور یہاں کے کفار ایسے ہی ہیں ) اور مسلمان کے درمیان سود نہیں ہوتا کہ عصمت مال تابع عصمت دم ہے اور حربی کا مال مثل نفس معصوم نہیں اور ربا میں عصمت بدلین شرط ہے۔ رد المحتار میں ہے: "ومن شرائط الرباعصمة البدلين‘) (1) تو جب شرط معدوم، مشروط خود نا موجود۔ ردالمحتار، کتاب البیوع ، باب الربا، ج۷، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت ہدایہ میں ہے: ”لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب لأن ما لهم مباح في دارهم ،، فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (1) یعنی مسلمان اور حربی کے درمیان سود نہیں اس لئے کہ حربی کا مال مباح ہے تو جس ذریعہ سے مسلمان اسے لے گا مال مباح لے گا جب تک کہ عذر شرعی نہ ہو اور یہ دھوکہ نہ لگے کہ علماء کرام نے دارالحرب کی قید لگائی ہے اور ہندوستان تو بحمدہ تعالیٰ دارالاسلام ہے جبکہ امام اہل سنت سید نا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی قدس سرہ نے اعلام الاعلام بان ہندوستان دار الاسلام میں تحقیق فرمائی ہے کہ اولاً یہ مفہوم لغت سے استثناء ہے اور مفہوم لغت صحت نہیں یعنی کسی کا بعینہ ذکر اس کے غیر کی نفی نہیں لہذا ضروری نہیں کہ دارالحرب کا یہ حکم غیر کا نہ ہوگا۔ کہ حکم علت کے ساتھ دائر ہوتا ہے، جہاں جہاں علت پائی جائے گی حکم ضرور پایا جائے گا اور حربی سے رہا جائز ہونے کی علت اس کا غیر معصوم ہونا ہے تو حربی جب تک حربی ہے اس سے رہا نہ ہو گا ، اس جگہ خصوصیت مکان کہ دارالحرب ہے کو حکم میں دخل نہیں اس لئے ملا جیون نے اپنے زمانے کے کفار ہند کے بارے میں فرمایا کہ: ،، ان هم الا حربی (۲) حالانکہ اس وقت شوکت اسلام خوب ظاہر و باہر تھی اور ہندوستان بدرجہ اتم دارالاسلام تھی۔ بالجملہ کفار زمانہ سے جو کچھ بے ذلت نفس اور بے بد عہدی کے جیسے ملے، خالص مباح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله