ہندوستان میں حربی ہندو سے سود لینے کے جواز کی شرعی حیثیت
زید کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ہندو سے سود لینا جائز ہے مگر بگر اس مسئلہ سے متفق نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان دار الحرب نہیں ہے چونکہ زید کی دلیل ہے لاربو بین المسلم والحربی اب سائل یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ زید بیچ راستے پر ہے یا بکر ؟ اگر زید صحیح راستے پر ہے تو کیوں؟ اور اگر بکر ہے تو کیوں؟ جواب جلد عنایت فرمائیں تو اچھا ہے چونکہ اس مسئلہ میں کافی جھگڑا چل رہا ہے۔ فقط والسلام احقر العباد: ایم ۔ جلال چشتی ساکن ہر پلہ، پوسٹ جیوئی ضلع بیر بھوم ( بنگال)
الجواب: زید کا قول صحیح ہے بلاشبہ مسلمان اور حربی کے درمیان سود نہیں اس لئے کہ سود کے لئے کہ دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط۔ رد المحتار میں ہے: من شرائط الرباشرط الربواعصمة البدلين“ (۱) اور حربی غیر مستامن کا مال معصوم نہیں عام ازیں کہ وہ دارالحرب میں ہو یا دارالاسلام میں ہندوستان دارالاسلام بایں معنی ہے کہ پہلے حکومت اسلامہ دیر تک رہ چکی ہے اور آج بھی شعائر اسلام ۔ مثلاً یہاں جمعہ وعیدین قائم اور مسلمان اپنی شرط کے قوانین کے مطابق نکاح وغیرہ معاملات کرتے ہیں، اس لئے یہ کب لازم ہوا کہ کفار یہاں کے حربی نہ ہوں؟ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میں تو شوکت اسلام ظاہر تھی پھر بھی علامہ امام ملا جیون نے اس زمانے کے متعلق یہ حکم دیا کہ حربی ہیں تفسیرات احمدیہ میں فرمایا: ،، ان هم الا حربی (۲) تو آج تو حالت یہ ہے۔ ردالمحتار کی عبارت سے معلوم ہوا کہ مدار کار عصمت مال پر ہے۔ جہاں عصمت مال متحقق وہاں حرمت ربوا قائم اور جہاں یہ نہیں رہا حرمت نہیں نہ کہ دار الحرب میں حربی کا ہونا (۱) رد المحتار، کتاب البیوع ، باب الربوا ، ج ۶، ص ۳۹۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) التفسير الاحمدي سورة التوبة، ص ۳۰۰ مكتبه رحيميه اگر ایسا ہوتا تو علماء کے قول لار با بین المسلم والحربی میں الحربی کی قید حشو ہو جاتی، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسلمان جو دارالحرب میں نسبتہ نہ ہو بلکہ بغرض تجارت وغیرہ دارالحرب میں آیا ہو تا ذین ہے؟ جو حاکم اسلام کو جزیہ دیتا ہو اور آ کے دارالحرب میں ٹھہرا ہو، ایسا کوئی عاقل نہیں کہہ سکتا تو ثابت ہوا کہ مدار کار عصمت مال و عدم عصمت مال پر ہے۔ اسی لئے علمائے کرام نے فرمایا: لا ربوا بين المسلم والحربي في دار الحرب لان مالهم مباح فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر “ملتقطا یہاں سے ظاہر ہوا کہ فی الحرب کی قید اتفاقی محض اس زمانے کے لئے ہے کہ اس زمانے میں کوئی دار الاسلام ایسا نہ تھا کہ جہاں کے کفار حربی غیر مستامن رہتے ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله