کالی دولت ظاہر کرنے پر حکومت کو ادا کردہ رقم کے خسارہ کو بینک انٹرسٹ سے پورا کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۵ء تک گورنمنٹ آف انڈیا کی ایک ڈسکلوز را سکیم چل رہی ہے جو اس طرح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے روپیہ کو جس کا کھاتہ نہیں ہے، بالفاظ دیگر کالی دولت کو ظاہر کر دے، پچیس ہزار روپیہ گورمنٹ کو بطور ضمان ادا کرے۔ اس طرح پچیس ہزار روپیہ ظاہر کرنے پر ۶۲۵۰ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا اس 6250 روپیہ خسارے کو بینک میں جمع کر کے اس کے اینڈلیسٹ سے پورا کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اس روپیہ کو کسی شخص کو اس شرط پر دے سکتے ہیں کہ وہ ایک سال تک اس کو مچنی رکھ کر 418 روپیہ کو استعمال کر کے اس سے فائدہ اٹھا کر ہم کو ایک سال بعد ۲۵۰۰۰ روپیہ واپس کر دے؟ لمستفتی: عبدالمالک رضوی (آگرہ)
الجواب: کر سکتے ہیں کہ بینک سے جمع شدہ رقم پر جو زیادتی ملتی ہے وہ سود نہیں نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے کہ سود مسلمان مسلمان یا ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے۔ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا کہ اس کے لئے دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط ہے۔ رد المحتار میں ہے: ،، من شرائط الرباعصمة البدلين ) لہذا ان سے جو زیادتی بغیر اپنی عزت و آبرو کو خطرہ میں ڈالے اور بے بدعہدی کے ملے خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: لان مالهم مباح فبأي طريق اخذه المسلم اخذا مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ رذی الحجہ ۱۳۹۵ھ