امام مسجد کو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینے اور اس کی اقتداء کا حکم
(۳) جو امام مسجد سے تنخواہ لے کر نماز پڑھائے تو اس کی اقتداء میں نماز جائز ہے یا نہیں؟ اور تنخواہ دینا امام کو مسجد سے جائز ہے یا نا جائز ؟ اگر جائز ہے تو جواب مع حوالے کے عنایت فرمائیں۔ المستفتی: شاه محمد رضوی ۸۵ رکڈ وا گھاٹ ،اندور (ایم پی )
(۳) امام کو مال مسجد سے تنخواہ دینا جائز ہے اور اسے لینا حلال ہے۔ اب فتویٰ اسی پر ہے۔ در مختار میں ہے: وو ويبدأ من غلته بعمارته ثم ما هو اقرب لعمارته كامام مسجدو مدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم (٢) رد المحتار میں ہے: قال في الحاوى القدسي يبدء به من ارتفاع الوقف اى من غلته عمارته شرط الواقف اول ثم ماهو اقرب الى العمارة واعم للمصلحة كالامام للمسجد والمدرس للمدرسة (۲) الدر المختار، کتاب الوقف، ج ۶، ص ۱۵۵۹ تا ۵۶۱_ دار الكتب العلمية، بيروت يصرف اليهم الى قدر كفايتهم ثم السراج والبساط کذالک - اھ “ (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ے رذی قعدہ ۱۴۱۰ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی