سود کے ذریعے مسجد و مدرسہ کے لیے زمین کی خریداری اور اس پر تعمیر کا حکم
زید،عمرو، بکر ۔ یہ لوگ اپنے دیہات کے پنچ ہیں ان لوگوں نے مسجد و مدرسہ کے لئے زمین خرید رکھی اور وہ روپیہ اس طریقے سے جمع ہوا اُن لوگوں کے پاس صرف پچپن روپیہ تھا، ان لوگوں نے اپنے گاؤں میں روپیہ تقسیم کر دیا اس شرط پر کہ دس رو پیدلو اور چھ مہینہ پر یعنی چھ مہینہ بعد ڈھائی روپیہ دینا۔ اس طریقہ سے روپیہ جمع ہوا۔ جب وقت مقررہ پر روپیہ نہیں ملتا تو یہ لوگ یعنی زید عمرو، بکر ، ان لوگوں نے یہ کہہ کر کہ کم از کم اوپر کے ڈھائی روپیہ تو دے دو جب کہ تم سب نہیں دے سکتے اور دینے والا یہ کہتا تھا کہ سب روپیہ نہیں دے سکتا تو ڈھائی روپیہ سود کا لے لو۔ یہ لوگ یعنی زید، عمر و بکر ، لے لیا کرتے تھے، اس طریقے سے روپیہ جمع ہوا۔ بعد ازیں روپیہ جمع ہونے کے بعد زمین خرید لی گئی ۔ اب رہ گیا سوال یہ کہ وہ یہ سود کا ہوا یا کہ نہیں؟ اور جو زمین خریدی ہے اس پر مدرسہ اور مسجد تعمیر کروانا چاہتے ہیں، کرواسکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس مدرسہ میں بچوں کو تعلیم دے سکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں ؟ کتاب وسنت سے حوالہ فرما کر شکریہ کا موقعہ دیں۔ عین کرم ہوگا! المستفتی: محمد محب القادری ٹانڈوی ۲۴ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ بروز پیر
الجواب: زید، عمر و و بکر کو اس طور پر روپیہ جمع کرنا حلال نہ تھا ، انہوں نے ضرور سو دلیا۔ حدیث میں ہے: ”کل قرض جرمنفعة فهو ربا (۱) ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے مگر جبکہ زمین کی خریدوفروخت میں عقد و نقد جمع نہ ہوئے ( اور آج کل اکثر خرید و فروخت اسی طور پر ہوتی ہے ) بایں طور کہ وہ سود کا روپیہ دیکھا کر نہ کہا ہو کہ اس کے بدلہ زمین دو تو وہ زمین ناجائز نہیں ، اس پر مدرسہ و مسجد تعمیر کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۹ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ (1) فيض القدير شرح الجامع الصغير ، حرف الكاف، ج ۵، ص ٣٦، دار الكتب العلمية، بيروت