رہن میں روپیہ لے کر مالگزاری مرتہن کے ذمہ کر دیا تو کیا حکم بدل جائے گا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ: (1) عمرو کے پاس پانچ بیگھہ کاشت کی زمین ہے جس کی مالگزاری بھی حکومت کو ادا کرتا ہے اب کسی مجبوری کی وجہ سے اس نے یہ زمین بکر کو اس شرط پر پانچ سوروپیہ میں دی کہ تم اس زمین میں غلہ وغیرہ بودو تم ہی اس غلہ اناج کے مالک و مختار ہو، مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور اس کھیت کی مالگزاری بھی میرے نام کی آپ ہی کے ذمہ ہوگی اور ادا کرنی پڑے گی ۔ جب میرے پاس پانچ سورو پیہ ہوں گے تو میں آپ کو ادا کر کے اپنی زمین واپس لے کر قابض ہو جاؤں گا۔ شرعاً اس میں کیا حکم ہے؟ (۲) اسی طرح سعید نے ساجد کو اس شرط پر کہ میرے پاس پانچ بیگھہ زمین کاشت کی ہے تم مجھے ایک ہزار روپیہ قرض دے دو اور میری اس زمین میں کاشت کر کے غلہ وغیرہ پیدا کرو، اس غلہ کے تم ہی مالک و مختار ہو، مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ اگر میں نے دس سال کے اندر تم کو ایک ہزار روپیہ واپس کر دیا تو میں اپنی زمین واپس لے لوں گا، اگر اس مدت میں میں نے روپیہ واپس نہ کیا تو پھر اس زمین کے ہمیشہ کے لئے تم ہی مالک و قابض ہو جاؤ گے، مجھے پھر اس سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔ اور سرکاری مالگزاری بھی میرے نام کی تم کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔ (۳) زید کے پاس بھی پانچ بیگھہ زمین کاشت کی ہے، وہ بھی ماجد کو اس شرط پر دینا چاہتا ہے کہ تم میری زمین سور و پیہ سال کے حساب سے لے لو اور اس میں کاشت کرو اور مجھے پانچ سال کی رقم پانچ سو روپیہ پیشگی دے دو، پانچ سال پورا ہونے کے بعد میں اپنی زمین واپس لے لوں گا اور سرکاری مالگزاری میں خود ادا کرتا رہوں گا۔ (۴) محمد صالح نے عاشق حسین کو یہ کہا کہ آپ میری زمین دس بیگھہ کی کاشت کل دو ہزار روپیہ میں لے لو اور اپنے نام بیعنامہ کرالو اور دس سال کے بعد میں دو ہزار روپیہ واپس ادا کر کے بیعنامہ واپس لے کر اپنی زمین واپس لے کر قابض ہو جاؤں گا اور اس مدت میں سرکاری مالگزاری آپ کے ذمہ ہوگی۔ (۵) محمد مبین نے اپنا مکان ، رہنے کا محمد یاسین کے پاس چار ہزار روپیہ میں اس شرط پر گروی رکھا کہ
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں یہ معاملہ اس سے فائدہ اٹھانے کا ہے اور یہ نا جائز ہے۔ نیز اس صورت میں قرض سے منفعت حاصل کر نالا زم اور یہ بھی حرام ہے۔ حدیث میں ہے: ”کل قرض جرمنفعة فهو ربا (1) زید کو یہ چاہئے تھا کہ بکر کوہ اپنی زمین اجارہ پر دیتا اور اجرت اکٹھی کر کے باقی رقم بکر کو مدت اجارہ کے بعد واپس کر دیتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ صورت بھی وہی پہلی صورت ہے اور اس کا بھی وہی حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ صورت عقد اجارہ کی ہے جو جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) یہ صورت بھی بیع وفا کی ہے اور بیع وفا ہمارے ائمہ مذہب کے نزدیک ناجائز ہے اور وہ حقیقہ رہن ہے اور رہن کا حکم او پر گزرا کہ اس سے راہن و مرتین کسی کو فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۵) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) یہ بھی وہی بیع وفا کی صورت ہے جو حقیقی رہن ہے اور رہن سے انتفاع ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) ۱۷ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ فیض القدیر شرح الجامع الصغير حرف الكاف، ج ۵، ص ٣٦، دار الكتب العلمية، بيروت