سرکاری بینک میں پیسہ جمع کرنا اور منافع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) سرکاری بینک میں پیسہ جمع کیا جائے تو وہاں سے ملنے والے منافع کو کیا کرنا چاہئے؟ مسلمانوں کے لئے وہ پیسہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اگر مسلمانوں کی کوئی بینک کھولی جائے اور مسلمانوں کو امداد پہنچانے کی خاطر ان کو قرض دیا جائے تو اس کو کیش کی شکل میں رہنا چاہئے قسطوں میں؟ کیونکہ اس میں پیسہ اور بینک کا لگا ہوا ہے اور ہمکو اس کو بیاج دینا پڑے گا، کیا اس طرح کا پیسہ بیچنے کی شکل میں جائز ہو جائے گا؟ فقط محمد عاقل قریشی ، مراد آباد
الجواب: (۱، ۲) سود مسلم اور مسلم یا مسلم اور ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے اور مسلم وحربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا کہ سود میں دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ولأن الربا انما یکون فی مال معصوم (1) رد المحتار میں ہے: من شرائط الرباعصمة البدلين (۲) اور حربی ( یعنی وہ جو حکومت اسلامیہ کو جزیہ نہیں دیتا اور اس معنی کر جملہ جہان کے کفار حربی ہیں ) کا مال شرعاً معصوم نہیں۔ تو یہاں شرط سود موجود نہیں۔ لہذا ان سے جو بے ذلت نفس و بے بدعہدی کے ملے خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح فى دارهم فبأي طريق أخذه المسلم أخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر ) انہیں زیادہ دینا بھی سود نہیں جیسا کہ کلام سابق سے ظاہر مگر بے ضرورت شرعیہ انہیں زیادہ دینا منع کہ ایصال نفع وصلہ ہے اور صلہ حربی شر عا منع ہے۔ قال تعالیٰ: إنما يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ فَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ الآية (٢) اس لئے ہمارے علمائے اسلام نے فرمایا کہ حربی کے لئے وصیت صحیح نہیں ہے۔ تنویر میں ہے: و من المسلم للذمى و بالعکس لا حربی فی داره (۳) رد المحتار میں ہے: قوله (لا حربي فى داره أى وان أجازت الورثة لنهينا عن برهم بقوله تعالى انما ينهكم الله الآية فعدم الجواز لحق الشرع لا لحق الورثة - الخ () ہاں جبکہ یہ صورت ہو کہ انہیں تھوڑ انفع دے کر اپنا عظیم نفع حاصل ہو تو رخصت ہے رہا مسلمان کا معاملہ تو اس سے نوٹ زیادہ قیمت پر بیچ دینے میں حرج نہیں کہ نوٹ شمن اصطلاحی ہے جس میں کمی و بیشی کا اختیار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله