امریکن بینکوں سے سود لینے کا حکم اور کفار زمانہ کے اموال میں سود کی شرط کی تحقیق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) امریکن بینک سے سود لینے کا کیا حکم ہے؟ یہاں پر کوئی بغیر بینک سے سود لئے یا دیے کسی طرح کا کام نہیں کر سکتا۔ (۲) جو آدمی مقروض ہے کیا وہ بغیر قرض ادا کئے حج و زیارت کو نہیں جا سکتا ؟ (۳) دو آدمی اللہ و رسول کا حلف لے کر حصہ داری میں تجارت کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو دھو کہ نہیں دیں گے لیکن ایک شریک کافی رقم اپنے شریک کی مار لیتا ہے تو کیا ایسی حالت میں دوسرا ٹریک پہلے سے انتقام لے سکتا ہے؟ حتی کہ اس کی جان لے کر انتقام پورا کر سکتا ہے؟
الجواب: المستفتی: محمد عرفان (1) جو بینک خالص امریکینوں کا ہو، اس سے مسلمان کو جو کچھ زیادتی اصل رقم پر ملے اس کے لئے خالص مباح ہے، سود نہیں نہ اسے سود سمجھنا جائز ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا ،، اذا لم يكن فيه غدر ) اور انہیں زیادہ رقم دینا بھی سود نہیں کہ سود مسلم و مسلم یا مسلم وذمی کے درمیان ہوتا ہے نہ کہ حربی و مسلم کے درمیان۔ بدایہ وغیرہ میں ہے: (1) (۲) ،، لاربابين المسلم والحربی (۲) اور یہ اسلئے کہ سود کیلئے مال معصوم ہونا شرط ہے اور یہ شرط کفار زمانہ کے اموال میں مشتکی ہے۔ الهداية ، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰، مجلس برکات الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات رد المحتار میں ہے: ”و من شرائط الرباعصمة البدلين (۱) ہاں بلا ضرورت و بے مصلحت شرعیہ انہیں زیادہ دینا منع ہے اور اگر ضرورت ہو یا اس صورت میں مسلم کو نفع کثیر ہو تو اجازت ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) فرض ادا کر کے جائے ، اور اگر قرض ادا کئے بغیر چلا گیا تو حج ہو جائے گا مگر گنہگار ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دھوکہ دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: ،، من غش فليس منا (۲) جو مسلمان کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ جس نے اس شخص کو دھو کہ دیا وہ اس سے جائز وشرعی طور پر انتقام لے سکتا ہے، اسے قتل کرنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم ذی القعده ۱۴۰۴ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی