دار الحرب اور حربی کی تعریف اور ہندوستان و نیپال کے بینکوں سے سود لینے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درباره مسئله ذیل: (1) کافر کسے کہتے ہیں؟ (۲) دار الحرب یا حربی کس کو کہتے ہیں؟ (۳) نیپال یا ہندوستان میں بسنے والی قومیں علاوہ مسلم کے کیا کہلائیں گی ؟ نیز ان سے سود کا لین دین کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ (۴) بینک نیپالی یا ہندوستانی سے لین دین کرنے پر جوسود ملتا ہے، وہ جائز ہے یا ناجائز؟ منظور احمد عرف بھگل ٹھیکیدار گھر داری ٹولہ، نیپال گنج
الجواب: (1) جو اللہ ورسول پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جس جگہ حکومت اسلامیہ کبھی قائم نہ ہوئی ہو اور وہ جگہ جہاں اسلامی حکومت کے بعد کفار کا تسلط اور شعائر اسلام و قوانین شرع یکسر معطل ہوں اور حربی ہر وہ کافر ہے جو حکومت اسلامیہ کو جزیہ نہ دیتا ہو اور مستأمن نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کفار حربی اور انکے سود کا معاملہ شرعا تحقیق نہیں کہ مسلم وحربی کے درمیان سود نہیں۔ لہذا بے ذلت نفس و بد عہدی محض ان کی طیب خاطر سے مسلم کو جو ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا حرام ۔ لا ربو أ بين المسلم والحربي في دار الحرب لان مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر ) اور انہیں زیادہ دینا اگر چہ سود نہیں، مگر بے ضرورت انہیں نفع پہنچانا حرام ۔ کذافی رد المحتار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سود نہیں، خالص مباح محض جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بک ڈپونو محلہ مسجد، بریلی سے منگا کر دیکھیں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ رذی قعده ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات