بینک کی اضافی رقم سے کاروبار کرنا کیسا ؟
فقہ حنفی کی روشنی میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) آج کل عام مسلمانوں میں یہ رواج ہو گیا کہ جو روپیہ اپنے پاس موجود ہو اس کے بدلے ڈاکخانوں یا بینکوں سے آپ کو دوگنی رقم مل جاتی ہے وہ اس رقم کو لے کر اپنے تمام کاروبار مضبوط کرتے ہیں ، اس میں کوئی پر ہیز نہیں کرتے۔ (۲) آیا جو رقم ڈاکخانوں یا بینکوں سے زائد ملتی ہے اس کو لے کر کھانا یا اپنے اخراجات پورے کرنا
حرام ہے یا کہ حلال؟ (۳) بعض لوگ اس زائد رقم کو لینا اور کھانا حرام سمجھتے ہیں اور اس زائد رقم کولین اسود سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس زائد رقم کا لینا اور کھانا حرام ہے۔ کیا واقعی یہ رقم سود ہوتی ہے؟ اور اس کا لینا اور کھانا حرام ہے یا کہ حلال؟ الجواب: المستفتی: مولوی فضل الدین مقام دودھلونال، ڈاکخانہ کیٹولہ ،شرف آباد حلال ہے کہ حربی کافر کا مال ہے جو مسلم کو بے غدر و بد عہدی ملتا ہے۔ اور مسلمان کو حربی کافر سے جو کچھ بے ذلت نفس و بد عہدی کے ملے خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح فی دار هم فبأي طريق اخذه المسلم أخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر (1)" اسے سود سمجھنا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بکڈپو، نو محلہ مسجد ، بریلی سے طلب کریں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ