جس بینک میں ہندو مسلمان دونوں کا روپیہ شامل ہو اس کا کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) جس بینک میں ہندو مسلمان دونوں کا روپیہ شامل ہو اس کا کیا حکم ہے؟ اس کا سود ہے یا نہیں؟ (۲) حکومت کا کوئی خالص بینک نہیں ہے بلکہ ہندو مسلمان کا مشتر کہ روپیہ شامل ہوتا ہے، اس کے سود کا کیا حکم ہے؟ (۳) خالص مسلمانوں کا ذاتی بینک ہے، اس کا سود جائز ہے یا نہیں؟ (۳) اگر سود کی رقم کسی مسلمان کو ملے تو وہ رقم مسلمان قرض کے سود میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ (۵) مشتر کہ بینک کے پروفٹ یا سود کی رقم سے پاخانہ بنوا سکتا ہے یا نہیں؟ یا پھر اس رقم کا کیا کرے؟ مستفتی: مختار احمد خاں، قریشی محلہ یا سیلہ (لما ) ڈونگر پور
الجواب: (۲۰۱) موجودہ بینکوں میں کسی مسلمان یا بندہ کی شرکت نہیں ہوتی بلکہ رقم بینک کو بطور امانت یا قرض دی جاتی ہے بینک اپنے دستور کے موافق اس اصل رقم پر زیادتی دیتا ہے جو مسلم کے لئے سود نہیں بلکہ خالص مباح ہے کہ کفار زمانہ حربی ہیں، ان سے مسلم کو بے ذلت نفس و بد عہدی جو کچھ ملے وہ خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر “ (1) البتہ اگر کسی بینک میں ہندو مسلم کی شرکت صحیحہ شرعیہ ہو تو اس کی زیادتی اصل رقم پر لینا جائز نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) دے سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) پہلے گزرا کہ مشترکہ بینک نہیں تو حکم جواز ہے اور بر تقدیر تحقیق بینک مشترکہ حکم منع ہے اور وہ رقم فقراء کو دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۲ھ