کفار حربی سے نفع لینے اور بینک کے سود کے متعلق شرعی حکم
سے سود لینا جائز ہے، اس کے کہنے پر بہت سے لوگ کافروں سے سود لیتے ہیں۔ اگر ان سے سود لینا شریعت میں جائز ہے تو بہتر ہے اور نہیں جائز ہے تو جو لوگ زید کے کہنے پر سود لیتے ہیں تو زید کے اوپر شریعت کی طرف سے کیا سزا مقرر ہو سکتی ہے؟ اگر لے سکتے ہیں تو بھی مفصل لکھیں اور نہیں لے سکتے تو بھی مفصل اور مکمل لکھیں اور بینک میں پیسہ جمع کرنے کے بعد بینک جو نفع دیتا ہے کیا وہ بھی سود میں شامل ہے؟ اگر وہ سود ہے تو اس کے بارے میں مفصل لکھیں۔
ابوالقیس رضوی عبد القیم پردھان مقام و پوسٹ نئی بازار ضلع مرزاپور
الجواب: کا فر حربی غیر مستامن سے جو کچھ مسلم کو بے ذلت نفس و بد عہدی محض اس کی رضا سے ملے وہ مسلم کو خالص مباح ہے سود نہیں، نہ اسے سود سمجھنا، کہنا جائز ہے۔
ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر “ (1)
یہاں سے ظاہر کہ حکم دارالحرب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مدار حکم حربی ہونے پر ہے اور هندوستان دارالاسلام ہے مگر کفار یہاں کے حربی ہیں اور تفصیل کے لئے رسالہ بینک قادری بلڈ پونو محلہ مسجد بریلی سے طلب کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، ۸۲ /سوداگران، بریلی شریف ۲ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ
(1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات