چوروں کے خوف سے مسجد کی رقم بینک میں رکھنے اور اس کے منافع کا شرعی حکم
چوروں کے ڈر سے مسجد کی رقم بینک میں رکھنا چاہتے ہیں کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زمانہ کے لحاظ سے چور چکاروں سے روپے کی حفاظت کے لئے اگر روپیہ بینک میں رکھے جائیں تو اس میں سے ان روپوں کا سود ( بیاج ) نکلے گا اور بیاج کھانا حرام ہے تو اب اس سے بچنے کے لئے کیا صورت نکل سکتی ہے؟ اگر کسی وجہ کر کے جائز ہو تو پھر مسجد کے پیسے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے یا نہیں؟ کہ مسجد کا کچھ روپیہ بینک میں جمع کرنا ہے تو بیاج کا پیسہ کہاں رکھے اور کیا کیا جائے؟ برائے مہربانی اس کا مدلل جواب دیجئے ۔ والسلام المستفتی: محمد علیم الدین صاحب نوری مدارسه حنفیه رونق اسلام ، در یا واڈا، پوسٹ مثل مضلع جونا گڑھ، گجرات
الجواب: بینک میں جو جمع رقم پر منافع ملتا ہے وہ سود نہیں بلکہ خالص مباح ہے کہ کا فرحر بی اور مسلم کے درمیان سود نہیں ہوتا لہذا حربی کافر سے جو کچھ بغیر بدعہدی اس کی رضا سے ملے مسلم کو حلال ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن مالهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (1) اور کفار زمانہ حربی ہیں۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۴ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ / نزیل دہلی (1) الهداية ، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات