بینک وڈاکخانہ کا سود جائز یا نا جائز ؟
برائے کرم مندرجہ ذیل مسائل کا جواب دینے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ پر کہ: بینک و ڈاکخانہ وغیرہ کا سود جائز ہے یا نہیں ؟ مفصل طور پر جواب دیجئے ۔ بینک یا ڈاکخانہ کا سود ناجائز اور حرام اب تک معلوم ہوتارہا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سود لے کر اپنے تصرف میں نہ لائے بلکہ کسی مسکین وغیرہ کو دے دے جزا کی نیت نہ رکھے، اب معلوم ہوا کہ کوئی گنجائش اس پر نکلی ہے کہ سود جائز ہے اور اپنے صرفہ میں لاسکتا ہے؟ سائل کو مطمئن کیجئے ! المستفتی: محمد خليل الرحمن همچین محله لال باغ نئی آبادی، رام گنگا روڈ ، مراد آباد
الجواب: بینک وڈاکخانہ سے جو زیادتی ملتی ہے وہ سود نہیں، خالص مباح ہے کہ کافران زمانہ حربی ہیں اور کا فرحربی سے مسلم کو جو کچھ بے غدر و بد عہدی ملے ، خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن مالهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذالم يكن فيه غدر (1) (1) الهداية ، كتاب البيوع، باب الربوا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات اور بینک سے قرضہ لینا بھی حلال ہے جبکہ اس میں نفع کثیر مسلم کو ملتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، ۸۲ /سوداگران، بریلی شریف