قبرستان کے درخت اور ان کی آمدنی کے استعمال کا حکم
سوال
جناب قبله محترم بزرگوار جناب حضور مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی بریلی شریف! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب عالی سے گذارش عرض یہ ہے کہ حسب ذیل مسئلے پر غور فرما کر صحیح مسئلہ سے آگاہ فرمائیں گزارش عرض یہ ہے کہ قبرستان میں آم و شریفہ کے درخت لگے ہوئے ہیں جس کی سالانہ آمدنی کم سے کم پانچ سورو پہیہ ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رقم صرف تکیہ دار فقیری استعمال کر سکتے ہیں کیا اس رقم کو انجمن اسلامیہ کمیٹی اپنے استعمال میں دیگر اخراجات میں جیسے اسکول کی عمارت ، بچوں کی تعلیم اور کس کس مد میں اس رقم کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے صحیح مسئلے سے آگاہ فرما ئیں ، کرم ہو گا! المستفتی شیخ محمد جبل پور ایم بی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: درخت جس نے لگا یا اس کی ملک ہے، بغیر اس کی اجازت کے کہیں صرف کرنا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۸ · صفحہ ۱۵۴–۱۵۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
وقف کی آمدنی کی تقسیم اور غیر حاضر اولاد کے حقوق کا حکم
باب: کتاب الوقف
چندہ کا پیسہ پورا خرچ نہ کر کے کچھ بچا کر دوسرے کام میں صرف کرنا کیسا؟
باب: کتاب الوقف
امام باڑہ جہاں ناجائز مروجہ تعزیہ رکھتے ہیں شرعی جگہ نہیں ہے اور اس غرض کے لیے وقف کرنا درست نہیں
باب: کتاب الوقف
مسجد اور مدرسہ کے مشترکہ وقف اور ان کی آمدنی و اخراجات سے متعلق نزاع اور دستور العمل
باب: کتاب الوقف
ہبہ کے بعد وقف کی شرعی حیثیت اور بندوق کے وقف کا حکم
باب: کتاب الوقف