مسجد اور مدرسہ کے مشترکہ وقف اور ان کی آمدنی و اخراجات سے متعلق نزاع اور دستور العمل
خرید لیا جائے اس میں مدرسہ قائم کریں گے اور دکانیں بنوائیں گے اور اوپر کمرے بنوائیں گے اس وقت مدرسہ قائم نہیں کیا گیا تھا اس لیے زمین کو مسجد کے نام کر دیا تھا جو زمین خریدی تھی اس میں کوئی عمارت نہیں تھی زمین کو چندہ کے رویئے سے خریدا گیا اس کے بعد اس زمین کو کرائے پر دیدیا اس کرائے سے اور چندہ کر کے اس میں دکانیں اور دکانوں کے اوپر کمرے بنوائے اس وقت مدرسہ قائم نہ ہو سکا۔ مدرسہ قائم نہ ہونے کی وجہ سے ساری آمدنی مسجد میں خرچ کرتے رہے اسی آمدنی سے اس مسجد کے پیچھے ایک مکان خریدا اور تعمیر کرائی سارا کرایہ مسجد کے کاموں میں اور اسی جائداد میں خرچ ہوتا رہا اب مدرسہ قائم ہوا دو سال سے مدرسہ چل رہا ہے مدرسے میں خرچ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چندے سے کام چلایا اس پر لوگوں نے اعتراض کیا جب جائداد مسجد اور مدرسہ کی اس کی آمدنی میں ہے تو کیوں نہیں خرچ کرتے اس پر زید نے اعتراض کیا کہ جائداد مسجد کی ہے مسجد کے نام ہے مدرسہ میں خرچ نہیں ہو سکتی یہ رقم مدرسہ میں جائز نہیں ہے۔ بکر کہتا ہے کہ جائداد چندہ سے خریدی چندہ سے بنی اور یہ کہ کر کہ ہم مدرسہ قائم کریں گے یہی کہہ کر چندہ لیا جن لوگوں نے یہ جائداد بنائی انہوں نے ایک درستور العمل بنا یا اس دستور سے یہ رقم مسجد اور مدرسے میں خرچ ہو سکتی ہے یہ جائز ہے دستور مندرجہ ذیل ہے۔ دستور میں چودہ دفعوں میں مسجد و مدرسہ کا خرچ کے بارے میں تحریر کیا ہے۔ دستور احمل مجلس منتظمہ مسجد یکشب محله بر هم پوره بریلی شریف یوپی دفع ۱۳ ذرائع آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ عطیات عامی چندہ کے علاوہ مدرسہ کے بچوں سے فیس بھی وصول کی جاسکتی ہے۔ دفع ۱۴ مسجد یکشب محلہ برہم پورہ بریلی وقف ۳۳۰، اور مدرسہ متعلقہ مدرسہ تعلیم القرآن کے جملہ انتظامی امور مثلا تعمیر و مرمت عمارت و تقریر برخاستگی امام و مؤذن و مدرسین و دیگر ملا زمان کرنا مسجد کی سالانہ پتائی کرنا صفائی کرنا ہر سال ماہ رمضان المبارک میں ختم قرآن کرنا اور اس کا اہتمام کرنا۔ دفع ۱۵ مدرسہ تعلیم القرآن کی نگرانی کرنا بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا بچوں اور مدرسین کے کام کی نگرانی کرنا۔ دفع ۱۶ مدرسه و مسجد کی جائداد ذاتی و موقوفہ موجودہ اور آئندہ کی دیکھ بھال کرنا اس کی تعمیر ومرمت کرنا کرایہ پر اٹھانا کرایہ وصول کرنا۔
المستفتی : مصطفی حسین ، ایوب خاں، احمد الاسلام، محمد حسین خاں ملاحظہ دفعات مندرجہ بالا سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائداد مذکور مشتر کہ طور پر مسجد و مدرسه پر وقف ہے اگر واقعہ یہی ہے تو اس کی آمدنی مسجد ومدرسہ دونوں پر صرف ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری ۲۲ شعبان ۱۴۰۰ھ