ہبہ کے بعد وقف کی شرعی حیثیت اور بندوق کے وقف کا حکم
کیا ہبہ کے ہوتے ہوئے وقف درست ہے؟ ہبہ قبل قبضہ بے اعتبار، بندوق کا وقف صحیح ہے کہ نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل پر: زید نے اپنی بندوق پہنچوں کے مابین اپنے لڑ کے عبد الحمید عبدالرشید محمد علیل کو ہبہ کر دی اور اس مجلس میں واہب نے بندوق پر لڑکوں کو قبضہ نہ دلایا کیوں کہ بندوق رہن تھی اور رہن لڑکوں نے ہی رکھی تھی۔ ایک روز کے بعد واہب نے چند آدمیوں کے سامنے بندوق کو مسجد تکیہ سلطان شاہ خالص پور کے واسطے وقف کر دی اور وقف کرتے وقت صرف ایک لڑکا موجود تھا اور وہ وقف سے راضی تھا تو کیا ہبہ کے ہوتے ہوئے وقف درست ہے ( اور دولڑ کے وقف پر راضی نہ تھے اور نہ اب ہیں ) اور اگر وقف درست نہیں ہے تو جولڑ کا ہبہ کے بعد وقف پر راضی تھا اس کے حصے کا وقف صحیح ہے یا نہیں اور وقف کے بعد بندوق پر متولیان مسجد کو قبضہ دلا دیا گیا تو کیا متولیان مسجد اس بندوق کو فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں ۔ اور وقف کرتے وقت بندوق اس لڑکے کے قبضے میں تھی جو وقف پر راضی تھا اور وقف کے بعد رہن سے چھڑالی گئی
اور رہن کی ادائیگی وارثان نے کی۔ نوٹ : مسجد کے امام محمد خلیل کو اس کا علم نہیں ہوا کہ کن تاریخوں پر بندوق پر متولیان مسجد نے قبضہ کیا۔ ہاں قبضہ کے بعد علم ہو گیا۔محمد خلیل مذکور اس نزاعی مسئلے میں ایک فریق بھی ہے مسجد کے متولی محمد بشیر شاہ ہیں۔ بینوا توجروا الجواب: المستقنى : عبدالحميد عبدالغفار محمد علیل خالص پورادری اعظم گڑھ ۲۴ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ صورت مسئولہ میں زید کا بندوق تو اپنے پسران کو ہبہ کا نفاذ اجازت مرتہن پر موقوف تھا ابھی جہ کی محفیذ با جازت مرتبین ہوئی بھی نہ تھی کہ زید نے بندوق وقف برائے مسجد کر دی اور جب کہ زید کا تصرف تصرف ہبہ از آن جا کہ مرتہن کی اجازت پر موقوف تھا غیر لازم ٹھہرا اور وقف تصرفات غیر قابل انفساخ سے ہے تو وہ بہر حال لازم الہذا حکم یہ ہے کہ ہبہ زید موقوف وقف لازم سے معدوم وکان لم یکن ہو گیا تو وہ بندوق مسجد کے لیے وقف ہوگئی اور متولیان مسجد کا قبضہ اس پر صحیح ہوا اور یہاں وقف مشاع کا سوال ہی نہیں اٹھتا کہ ہبہ سرے سے غیر لازم بھت اور زید نے دوہرے تصرف سے اسے معدوم کر دیا پھر جب کہ ٹھی موہوب پر واہب نے قبضہ نہ کرایا تو وہ موہوب لہ کی ملک ہی نہ ہوئی اور جب موہوب لہ کی ملک قبضے کی محتاج تو اس کے اجازت دینے نہ دینے سے کیا اثر کہ قبل قبضہ وہ ٹی خاص واہب کی ملک ہے اور آدمی اپنی ملک میں ہر جائز تصرف کا مختار تو ہب قبل قبضہ بے اعتبار ۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ بندوق اگر رہن بھی نہ ہوئی اور زید سے اپنے بیٹے کو ہبہ کرتا اور قبل قبضہ اسے وقف کر دیتا یا اس میں کوئی تصرف شرعی کرتا بلا شبہ تو وہ تصرف صحیح ولازم ہوتا اور ہبہ نسخ ہو جا تا تو یہاں بدرجہ اولی زید کا تصرف وقف صحیح ہونا ضرور۔ عنایہ میں ہے: ”من تصرف في مال له تعلق به حق الغير جاز موقوفاً فان اجاز مرتهن تم العقد ملخصاً) (1) العناية شرح الهدايه، على حاشية تكملة فتح القدير، ج ، ٩ ا ، مطبع المكتبة النورية الرضوية سكهر کفایہ میں ہے: ” والاصل ان تصرف الراهن في الرهن اذا كان يبطل حق المرتهن لا ينفذ الاباجازة المرتهن (1) در مختار میں ہے: ولو باعه الراهن ثم اجره او رهنه او و هبه من غيره فاجاز المرتهن الاجارة او الرهن اوالهبة جاز البيع الاول“(۲) رد المحتار میں ہے: قوله اورهنه او و هبه اى مع التسليم اذ لا عبرة لهذين العقدين بدونه : الاتقانی عن ابی المعین (۳) مگر یہاں یہ امر قابل لحاظ ہے کہ بندوق منقول کے قبیل سے ہے اور کسی منقول کا وقف جب تک اس کے وقف پر تعامل نہ ہو صحیح نہیں لہذا اگر اس جگہ بندوق کو وقف کرنے کی عادت عامہ ہے تو بندوق کے وقف کی صحت کا حکم ہوگا ورنہ وقف صحیح نہ ہوا۔ درمختار میں ہے: صح وقف كل منقول قصداً فيه تعامل للناس كفأس و قدوم بل و دراهم و دنانير(۲) اسی میں ہے: وقف بقرة على ان ما خرج من لبنها او ثمنها للفقراء ان اعتادو اذالک رجوت يجوز (وقدر وجنازة وثيابها ومصحف وكتب لان التعامل يترك به القياس لحديث (ما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن) (۵) رد المحتار میں ہے: ”وعلى هذا فالظاهر اعتبار العرف في الموضع او زمان الذي اشتهر فيه دون غيره فوقف الدراهم متعارف فى بلاد الروم دون بلادنا ووقف الفأس والقدوم كان متعارفاً فى زمن المتقدمين و لم نسمع به في زماننا فالظاهر انه لا يصح الآن ولئن وجد نادراًلا يعتبر لما علمت من ان التعامل هو اكثر استعمالأفتأمل اور به صورت عدم صحت وقف، بندوق زید ہی کی ملک ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری غفرلہ ۱۰ر رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ صح الجواب ! مگر سوال میں خط کشیدہ جملے اوپر کے بیان سے متعارض ہیں اور وضاحت طلب ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی