امام باڑہ جہاں ناجائز مروجہ تعزیہ رکھتے ہیں شرعی جگہ نہیں ہے اور اس غرض کے لیے وقف کرنا درست نہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کے آباء و اجداد نے اپنے مکان کے باہر ایک کوٹھری امام باڑہ کے لیے بنوادی تھی اور اس میں محرم کے مہینے میں تعزیہ رکھا جاتا تھا کچھ عرصہ کے بعد وہ کو ٹھری مسمار ہوگئی اور تعزیہ بھی رکھنا عرصہ دراز سے بند ہو گیا زید نے اپنے آبائی مکان کو اور اس کوٹھری کی افتادہ زمین کو جس کا زید مالک تھا فروخت کر دیا مکان اور اس کوٹھری کی جگہ کو فروخت کر کے جو روپیہ زید کو ملا زید نے ان روپیوں میں سے مبلغ دو ہزار روپیہ علیحدہ کر دیا اور ارادہ یہ کیا کہ ان دو ہزار روپیوں کو کہاں خرچ کرے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زیدان دو ہزار روپیوں کو کہاں خرچ کرے یا ان دو ہزار روپیوں کو کسی امام باڑہ ہی کو دینا ضروری ہے برائے کرم جواب سے مستفیض فرمائیں۔ اور یہ بھی فرمانے کی زحمت گوارہ فرما ئیں کہ ہندوستان میں امام باڑے کے نام سے جو مکان بنے ہوئے ہیں ان کی شریعت مطہرہ میں کیا نوعیت ہے کیا وہ قابل احترام جگہ ہے اور اس جگہ اور مکان کو ملا کر اسے استعمال میں لاسکتا ہے اور اس کو فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور فروخت کرنے کے بعد اس روپیہ کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ المستلقى : 5 والتقارحسین صدیقی بیسلپور ضلع پیلی بھیت
الجواب: امام باڑہ جہاں ناجائز مروجہ تعزیہ رکھتے ہیں شرعی جگہ نہیں ہے اور اس غرض کے لیے وقف کرنا درست نہیں ۔ لہذا وہ جگہ مالکان کی ملک میں ہے اس میں انہیں ہر جائز تصرف جائز ہے یہاں سے ظاہر ہے کہ زید کو ان روپیوں کا اختیار ہے جو چاہے کرے مگر امام باڑہ پر ہرگز نہ دے یہ جائز نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ