چندہ کا پیسہ پورا خرچ نہ کر کے کچھ بچا کر دوسرے کام میں صرف کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : جلسے کے لیے چندہ مانگا جاتا اور جلسہ ہونے میں وہ رقم پوری صرف نہ کی جاتی بچائی جاتی یہ رقم بچانا پوری صرف نہ کرنا کیسا ہے اور یہ بچی ہوئی رقم کس کس کام میں آسکتی ہے جن لوگوں نے چندہ دیا ہے ان سے بغیر پو چھے اس رقم کو صرف کرنا کیسا ہے۔
الجواب: بچانے میں ہرصورت محتمل ہے اچھی نیت سے بغیر تحقیق کیے اور بے محل صرف سے بچتے ہوئے کچھ روپیہ کی جائز و مقبول شرعی مصلحت سے بچایا اور چندہ دہندگان کو بتا کر راضی کر لیا تو اچھا کیا ورنہ برا کیا اور اس رقم کو بغیر چندہ دہندگان کی اجازت کے کہیں صرف کرنا بلکہ پاس رکھنا بھی جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۵ رشوال المکرم ۱۳۹۰ھ الجواب صحیح ! چندہ دہندگان کی اجازت صرف کے لیے ضرور ہے خواہ وہ اجازت عرفی ہو خواہ صراحۃ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی