گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جیسے بے گناہ !
بخدمت جناب مولانا صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته مسئلہ ضروری تحریر یہ ہے کہ ایک شوہر اور بیوی میں کچھ گھر میلو معاملات کو لے کر آپس میں جھگڑا ہوا جسے سمجھانے کے لئے لڑکی کے والد بھی آئے ، معاملات سلجھنے کے بجائے اور زیادہ الجھ گیا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔ لڑکے نے تین سے زیادہ بار طلاق لفظ استعمال کیا جس کی جانکاری صرف گھر کے لوگوں تک ہی محدود رہی۔ طلاق کے بعد شوہر کی جان جانے کا بھی خطرہ تھا۔ لہذا شو ہر کی بہن نے ایسے نازک وقت میں لڑکی کے والد سے کہا کہ اس نے صرف ایک بار ہی طلاق لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسری بار کہنے سے پہلے ہی روک دیا۔ لڑکی کے والد نے اس کی بات پر اطمینان کر لیا۔ خدا سے اپنی غلطی کی معافی کا خواستگار ہے۔ آنحضرت سے گزارش ہے کہ اس گناہ عظیم میں کمی کرنے کا کوئی شرعی طریقہ بتا دیں جس سے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے۔ فقط والسلام مرتضی علی بنزیل بلیا
الجواب: تو بہ کرے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جیسے بے گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ارربیع الاول ۱۴۰۴ھ