مطلقہ لڑکی کا نکاح سے انکار کرنا اور اس کے گھر والوں کے یہاں کھانے پینے کا حکم
زید کی لڑکی ہندہ کی شادی ہوئی تھی اور بعد میں طلاق ہوگئی زید کی لڑکی طلاق کے بعد آج تقریباً پندرہ سال سے اپنے میکے میں رہتی ہے۔ شادی کرنے سے انکار کرتی ہے نکاح کا پیغام آئے تو صاف کہتی ہے کہ میں شادی نہیں کروں گی گھر کے کام اور باہر کھیت کے کام کو بڑی دلچسپی سے کرتی ہے اسکے یہاں کھانے پینے کا کیا حکم ہے اور اس کا شادی سے انکار کرنا کیسا ہے؟ جواب سے آگاہ فرما ئیں ۔ عین مہربانی ہوگی۔ فقط والسلام المستنى : عبد الغفور
الجواب: اس وجہ سے زید کے یہاں کھانا پینا نا جائز نہ ہوگا۔ اور لڑکی کو انکار شادی سے بے مصلحت شرعیہ نہ چاہئے کہ شادی حالت اعتدال میں سنت مؤکدہ ہے اور سنت سے بے رغبتی شرعاً مذموم و ناپسندیدہ ہے۔ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے: وو من رغب عن سنتی فلیس منی (1) اور غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب اور زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو نکاح فرض ہے اور نکاح پر ہیز گاری کا ذریعہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ