امام پر بدکاری یا وضع حمل کے الزام اور اس کی اقتدا اور معزولی کا حکم
کام کرنے سے مصلیان مسجد اس کی اقتداء کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اب زید کو ایسی صورت میں اپنے منصب امامت پر رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور اس کی اقتداء درست ہے یا نہیں؟ از روئے شرع شریف جواب سے محظوظ فرما ئیں ۔ جواب مدلل ومکمل ہو۔ بینوا توجروا فقط ! محمد عبد القيوم، صدر غویہ کمیٹی کی اف محمد یه نی مکتبہ نمبر ۱۱۴ مدار گڑھ سر یا موسقی واک وجے واڈا، کرشنا ڈسٹ-۵۲۰۰۰۱
الجواب: وضع حمل بعض صورتوں میں جائز ہے اور بعض صورتوں میں ناجائز ہے تفصیل سے بتایا جائے کہ امام نے کون سی صورت میں وضع حمل کرایا ہے اور اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ امام معاذ اللہ زنا کا مرتکب ہوا تو چار گواہان شرعی ( جنہوں نے ایسا دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی) کی شہادت شرعیہ درکار ہے اور اگر یہ نہ ہو تو امام کا اقرار ثابت عند الشرع ضرور ورنہ امام پر الزام ثابت نہ ہوگا اور بے ثبوت شرعی تہمت لگانے والے گنہ گار قرار پائیں گے کہ بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کی نسبت حرام ہے۔ احیاء العلوم میں ہے: "لا تجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (1) البتہ اتہام اور تعاون علی الاثم متحق ، لہذا امام مذکور کو معزول کر دیا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ (1) احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الأفة الثامنة اللعن، ج ۵، ص ۴۴۸ ، دار المعرفة بيروت